أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَوَسۡوَسَ اِلَيۡهِ الشَّيۡطٰنُ قَالَ يٰۤاٰدَمُ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى‏ ۞

ترجمہ:

شیطان نے ان کی طرف وسوسہ ڈالا اور کہا : اے آدم ! کیا میں دائمی حیات کے درخت کی طرف آپ کی رہنمائی کروں اور اس بادشاہت کی طرف جس کو کبھی زوال نہ ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : شیطان نے ان کی طرف وسوسہ ڈالا اور کہا : اے آدم ! کیا میں دائمی حیات کے درخت کی طرف آپ کی رہنمائی کروں ! اور اس بادشاہت کی طرف جس کو کبھی زوال نہ ہو پس ان دونوں نے اس درخت سے کھالیا سو ان دونوں کے ستر کھل گئے اور وہ دونوں جنت کے پتوں سے اپنے ستر کو ڈھانپنے لگے اور آدم نے (بہ ظاہر) اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ لغزش میں مبتلا ہوگئے پھر ان کے رب نے انہیں برگزیدہ فرمایا اور ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان کو (بلند درجات کی) ہدایت دی (طہ :120-122)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بہت عظیم مقام عطا فرمایا ان کو مسجود ملائکہ بنایا اور ان کو تمام چیزوں کا علم عطا فرمایا اور ان کو یہ بتادیا کہ ان سے اور ان کی بیوی سے ابلیس سخت عداوت رکھتا ہے اور وہ ان کو بہکائے گا اور ان سے معصیت صادر کرا کر ان کو جنت سے نکلوانے کی کوشش کرے گا اور ابلیس نے حضرت آدم کو اور ان کی بیوی کو لغزش میں مبتلا کرا دیا اور عجیب بات یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا علم بہت کامل تھا اور ان کی عقل بہت روشن تھی اور ان کو معلوم تھا کہ ابلیس ان کا دشمن ہے اور اس نے ان کو سجدہ نہیں کیا اور وہ اسی وجہ سے دائمی لعنت کا مصداق اور مستحق بن گیا اس کے باوجود انہوں نے اس کے فریب میں آ کر اس درخت سے کھا لیاس سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی قضا اور اس کی تقدیر کو روک نہیں سکتی۔

رہا یہ کہ ابلیس نے کیا وسوسہ کیا اور کس طرح کیا اس کی تفصیل ہم البقرہ میں بیان کرچکے ہیں اور الاعراف میں بھی اس کا ذکر کیا ہے اور حضرت آدم اور ان کی بیوی کا ستر کھل جانا اور پتوں سے ان کا اپنے جسموں کو ڈھانپنا اس کی تفسیر بھی ہم سورة الاعراف میں بیان کرچکے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 120