باب الامامۃ

امامت کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ امام کے معنی ہیں پیشوا راہبر،اُمٌّ سے بنا،بمعنی قصدو ارادہ یعنی جس کی پیروی کا لوگ قصد کریں،اب دینی پیشوا کو کہا جاتا ہے۔امامت دو قسم کی ہے:امامت صغریٰ یعنی نماز کی امامت،امامت کبریٰ یعنی خلافت اسلامیہ عثمانیہ یہاں امامت صغریٰ مراد ہے۔

حدیث نمبر 341

روایت ہے حضرت ابو مسعود سے فرماتے ہیں،فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قوم کی امامت وہ کرے جو کتاب اﷲ کا زیادہ قاری ہو ۱؎ اگر قرأت میں سب برابر ہوں تو سنت کا زیادہ جاننے والا ۲؎ اگر سنت میں سب برابر ہوں تو پہلے ہجرت والا اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو زیادہ عمر رسیدہ ۳؎ کوئی شخص کسی شخص کی ولایت کی جگہ امامت نہ کرے اور نہ اس کے گھر میں اس کے بغیر اجازت اعلیٰ مقام پر بیٹھے۴؎(مسلم) اور مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کی اس کے گھر میں امامت نہ کرے۔

شرح

۱؎ عہدِ نبوی میں قریبًا سارے صحابہ نماز کے مسائل کے عالم تھے مگر قاری کوئی کوئی تھا اس لیے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ امامت کے لیے مقدم وہ ہے جو عالم ہونے کے ساتھ قاری بھی ہو۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ قاری غیر عالم،عالم غیر قاری سے مقدم ہوگا۔دیکھو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات شریف میں صدیق اکبر کو امام بنایا حالانکہ ابی ابن کعب صحابہ میں بڑے قاری تھے،بلکہ فرمایا جہاں ابوبکر موجود ہوں وہاں کسی کو امامت کا حق نہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ عمل اس حدیث کی تفسیر ہے اسی لیے امام اعظم و امام شافعی وغیرہم امامت میں عالم کو قاری پر مقدم رکھتے ہیں کیونکہ علم کی ضرورت نماز کے ہر رکن میں ہے،قرأت کی ضرورت صرف ایک رکن میں،امام ابو یوسف اور بعض دیگر علماء نے ظاہر حدیث کو دیکھ کر قاری کو عالم پر مقدم رکھا مگر قول اول نہایت صحیح ہے۔

۲؎ یعنی اگر قرأت سب کی یکساں ہو تو صرف عالم کو مقدم کرو۔خیال رہے کہ یہاں علم سنت سے مراد نماز کے احکام کا جاننا ہے نہ کہ سند یافتہ عالم ہونا اور یہ کلام اس جگہ کے لیے ہے جہاں کوئی امام مقررہ نہ ہو یعنی ایسوں کو امام بناؤ لیکن جس مسجد میں امام مقرر ہو تو وہاں وہی امامت کا حقدار ہوگا اسے کوئی عالم یا قاری نہیں ہٹا سکتا اس کے لیے اگلی حدیثیں آرہی ہیں۔

۳؎ غرض کہ امام میں مقتدیوں پر کوئی دینی فوقیت چاہیئے اب شرعی ہجرت تو موجود نہیں زیادتی عمر کا ہی اعتبار ہوگا،بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہاں ہجرت سے مراد گناہوں کا چھوڑنا ہے(ہجرت معنوی)یعنی پھر متقی پرہیزگار غیر متقی پر مقدم ہوگا۔

۴؎ یعنی جہاں امام مسجد مقرر ہو وہاں وہی نماز پڑھائے گا اگرچہ اس سے بڑا عالم یا قاری موجود ہو،معلوم ہوا کہ گزشتہ ترتیب وہاں کے لیے تھی جہاں امام پہلے سے مقرر نہ ہو، ہاں مقررہ امام کی اجازت سے دوسرا نماز پڑھا سکتا ہے۔