أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِىۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:

وہ کہے گا اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ؟ حالانکہ میں دنیا میں) دیکھنے والا تھا

وہ کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ؟ حالانکہ میں دنیا میں دیکھنے والا تھا ! اللہ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس دنیا میں میری نشانیاں آئی تھیں تو تو نے ان کو فراموش کردیا تھا اور اسی طرح آج تجھے بھی فراموش کردیا جائے گا۔ (طہ :125-126)

اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ وہ یہ کیسے کہے گا کہ تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ؟ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم سلطنت کو دیکھ رہا ہوگا، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ جاننے کے لئے سوال کرے گا کہ اس کو کس جرم میں اندھا اٹھایا گیا ہے حالانکہ ہو دنیا میں دیکھنے والا تھا اور اللہ تعالیٰ کسی شخص کو بغیر جرم کے سزا نہیں دیتا۔

بعض آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر میدان حشر میں دیکھنے والا ہوگا وہ اپنے اعمال نامہ کو پڑھے گا اور جنتیوں اور دوزخیوں کو دیکھے گا اس کا جواب یہ ہے کہ اعمی سے مراد اعمی البصر نہیں ہے بلکہ اعمی الحجت ہے، یعنی دنیا میں تو اس نے اپنے کفر اور فسق پر حجتیں بنا رکھی تھیں لیکن آخرت میں اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی اور وہ بالکل خالی ہاتھ ہوگا، اور اگر اس سے مراد داعیمی البصر ہو تو پھر اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے بعض احوال میں اس کی بینائی نہیں ہوگی اور وہ اندھا ہوگا اور بعض دوسرے احوال میں وہ بینا ہوگا اور قیامت کے ہولناک مناظر کو دیکھنے کے لئے اس کو بینائی عطا کردی جائے گی۔ پھر فرمایا :

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 125