أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ‌ ؕ وَاَسَرُّوا النَّجۡوَى‌ۖ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ‌ۖ هَلۡ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ‌ ۚ اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ان کے دل کھیل کود میں ہیں، اور ظالموں نے آپس میں یہ سرگوشی کی کہ یہ شخص تو تمہاری ہی مثل بشر ہے کیا تم جانتے بوجھتے جادو کے پاس جا رہے ہو

آپ کا بشر ہونا آپ کی نبوت کے خلاف نہیں 

الانبیاء : ٣ میں فرمایا اور ظالموں نے آپس میں یہ سرگوشی کی کہ یہ شخص تو تمہاری ہی مثل بشر ہے۔

کفار مکہ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر یہ اعتراض کیا کہ یہ شخص تو تمہاری ہی مثل بشر ہے، ان کا یہ اعتراض باطل تھا، کیونکہ نبوت کسی شخص کی صورت اور شکل پر موقوف نہیں ہے، نبوت کا ثبوت دلائل اور معجزات پر ہے، اور جب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نبوت پر دلائل اور معجزات پیش کردیئے اور خصوصاً قرآن مجید کو اس چیلنج کے ساتھ پیش کیا کہ تم اس کی نظیر نہیں لاسکتے اور وہ نہیں لاسکے تو آپ کی نبوت اور رسالت ثابت ہوگئی، اور ان کا اعتراض ساقط ہوگیا، ان کا کہنا یہ تھا کہ نبی کو فرشتہ ونا چاہیے لیکن ان کا یہ قول بدھتہ باطل تھا کیونکہ اگر فرشتہ اپنی اصل شکل و صورت میں آتا تو وہ اس کو دیکھ سکتے اور نہ اس کا کلام سن سکتے کیونکہ فرشتے تو دنیا میں ہر جگہ ہیں لیکن وہ کسی کو نظر نہیں آتے نہ کوئی ان کا کلام سنتا ہے۔ ہمارے دائیں بائیں کراماً کاتبین ہیں لیکن ہم ان کو نہیں دیکھتے تو اگر فرشتے اپنی شکل و صورت میں آتے تب بھی کفار ان سے استفادہ نہیں کرسکتے تھے اور اگر وہ انسان اور بشر کی صورت میں آتے تو وہ کہتے یہ تو ہماری ہی طرح انسان اور بشر ہے ہم اس کو نبی کیوں مانیں ؟ دراصل ان کا یہ اعترضا ان کی نہایت کم عقل پر بمنی ہے کیونکہ یہ ضروری تھا کہ انسانوں کے پاس انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا جاتا تاکہ وہ اس کو دیکھ سکتے، اس کی باتیں سن سکتے اس کے افعال ان کے لئے نمونہ اور حجت ہوتے، اگر کسی اور جنس کا روسل ان کی طرف بھیج دیا جاتا تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اس کی عبادت ہم پر حجت نہیں ہے اور اس کے افعال ہمارے لئے نمونہ نہیں ہیں کیونکہ یہ اور جنس سے ہے اور ہم اور جنس سے ہیں، ہوسکتا ہے کہ اس کی حقیقت میں ایسا عنصر ہو جس کی وجہ سے یہ اس قدر کٹھن عبادات کرسکتا ہو اور ہماری حقیقت میں یہ عنصر نہیں ہے اس لئے ہم ایسی عبادات نہیں کرسکتے اور ایسے کام نہیں کرسکتے، اس لئے ضروری تھا کہ انسانوں کے لئے کسی انسان اور بشر کو ہی رسول بنا کر بھیجا جاتا ہاں اگر زمین میں فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ان کے لئے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیج دیا جاتا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

قل لو کان فی الرض ملئکۃ یمشون مطمئنین لنزلنا علیہم من السماٗ ملکا رسولا۔ (بنی اسرائیل :95) ٓپ کہئے اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ضرور ان پر ٓسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے۔

اگر کسی اور جنس کا رسول ان کے پاس بھیج دیا جاتا تو اس کی اتباع کرنا اور اس کے نقش قدم پر چلنا ان کے لیے بہت مشکل اور بےحد دشوار ہوتا، یہ اللہ تالیٰ کا ان پر بےحد کرم اور بہت بڑا احسان ہے کہ وہ انسان اور بشر تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف انسان اور بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجا چناچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم یتلوا علیہم ایتہ و یزکیہم ویعلم الکتب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین : بیشک اللہ کا مومنین پر یہ احسان ہے کہ اس نے ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج دیاجو ان پر اس کی ٓیتوں کی تلاوت کرتا ہے، ان کے باطن کو پاک اور صاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے بیشک اس (کو بھیجنے) سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔

قرآن مجید کو جادو قرار دینے کا جواب : نیز کفار کہتے تھے : کیا تم جانتے بوجھتے جادو کے پاس جا رہے ہو، یہ کفار کا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دوسرا اعتراض تھا، وہ کہتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ جادو ہے، اور یہ اعتراض بھی ان کی جہالت پر مبنی تھا۔ کیونکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نبوت کے ثبوت پر قرآن مجید کو پیش کیا تھا اور اس میں کوئی ملمع کاری، شعبدہ بازی اور نظر بندی نہیں تھی۔ عرب میں لوگ فصیح اور بلیغ تھے ٓپ نے ان کے سامنے یہ کلام پڑھا اور فرمایا یہ اللہ کا کلام ہے اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ انسان کا کلام ہے تو تم بھی ایسا کلام بنا کرلے آؤ، آپ متواتر اور مسلسل ان کو اس جیسا کلام لانے کے لیے للکارتے رہے وہ آپ کی نبوت کو باطل کرنے پر بہت حریص تھے اور فصاحت اور بلاغت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اگر وہ اس کلام کی نظیر لانے پر قادر ہوتے تو ضرور اس کی نظیر لے آتے لیکن جب وہ پیہم مطالبوں کے باوجود ایسا کلام نہیں لاسکے تو واضح ہوگیا کہ یہ قرآن عظیم آپ کا معجزہ ہے اور آپ کے دعویٰ نبوت کا صدق ظاہر ہوگیا اور یہ معلوم ہوگیا کہ یہ جادو نہیں ہے اور ان کا قرآن مجید کو جادو کہنا باطل ہے وہ صرف جان چھڑانے اور اپنے چیلوں چانٹوں کو مطمئن کرنے کے لیے قرآن مجید کو جادو کہتے تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 3