أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ كِتٰبًا فِيۡهِ ذِكۡرُكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ۞

 ترجمہ:

بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہاری نصیحت ہے، سو کیا تم نہیں سمجھتے ؟

اس آیت میں فرمایا ہے ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ذکر ہے۔ اس میں ذکر کے تین محامل ہیں :

(١) اس کتاب میں تمہارے شرف اور تمہارے مرتبہ کا ذکر ہے اور دوسری امتوں پر تمہاری افضلیت کا بیان ہے۔

(٢) اس کتاب میں تمہیں نصیحت کی گئی ہے تاکہ جو کام تمہارے لئے ناجائز ہیں تم ان سے بچو اور جو کام تمہارے لئے ضروری ہیں تم ان کو انجام دو اور ذکر سے مراد نیک کاموں پر تمہارے لئے بشارت ہے اور برے کاموں پر تمہاری سزا کی وعید ہے۔

(٣) ذکر سے مراد تمہارے دین اور تمہارے احکام شرعیہ کا بیان ہے، جن پر عمل کر کے تم دین اور دنیا کی فلاح حاصل کرسکتے ہو۔ پھر فرمایا کیا تم نہیں سمجھتے۔ یعنی کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے، یعنی تم قرآن مجید میں غور و فکر کر کے اپنی دین اور دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 10