لڑکا یا لڑکی اللہ ہی کی چاہت

دنیا میں توالدو تناسل کا سلسلہ اللہ کا جاری کیا ہوا ہے،اس میں مخلوق ایک ظاہری سبب ہے حقیقت میں سب کچھ اللہ کی طرف سے ہو رہا ہے،اللہ نہ چاہے تو کوئی سبب کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے،کل من عند اللہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے،کسی مادہ کو حمل ہونا یہ بھی اللہ کی چاہت اور اس حمل کا نر یا مادہ ہونا یہ بھی اللہ کی چاہت،یھب لمن یشآء اناثا و یھب لمن یشآء الذکور او یزوجھم ذکرانا و اناثا،ویجعل من یشآء عقیما،انہ علیم قدیراللہ جسے چاہتا ہے لڑکیان دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے،یا دونوں ملا دے بیٹے بیٹیاں،اور جسے چاہے بانجھ کردے،بیشک وہ علم قدرت والا ہے، جب سب کچھ اللہ کی چاہت سے متعلق ہے اس میں ایک کو اچھا اور دوسرے کو برا کیوں کھا جائے گا ؟ہم مسلمانوں کو اللہ کی چاہہتوں پر نثار رہنا چاہیئے !ہمیں ایسا بننا چاہیئے کہ جس نوعیت سے ناپا جائے ہم میں اسلام نظر آئے،غلط ذہنیت اسکے پاس آئے جس کے پاس آئین اور دستور زندگی نہ ہو ہمارے پاس کیوں آئے؟ہمارے پاس تو اللہ کی کتاب قراٰن موجود ہے اور نبی کا فرمان حدیثیں موجود ہیں،جس جاھلیت کو ہمارے نبی کے قدموں نے کچلا ہے وہ ہمارے پاس بھٹکنی نہیں چاہیئے افحکم الجاھلیۃ یبغون ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کسکا حکم یقین والوں کے لئے؟قراٰن آگاہ کر رہا ہے کہ اللہ کے حکم سے بہتر مومن کے لئے کوئی حکم نہیں ہے تو ہمیں اللہ کے حکم پر عملا بھی ثابت رہنا چاہیئے