حدیث نمبر 348

روایت ہے حضرت سلامہ بنت حر سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علامات قیامت سے یہ ہے کہ مسجد والے ایک دوسرے پر ٹالیں کوئی امام نہ پائیں جو انہیں نماز پڑھائے ۲؎(احمد،ابوداؤد، ابن ماجہ)

شرح

۱؎ آپ صحابیہ ہیں،قبیلہ بنی ازدسے یا بنی اسد سے،ان کی حدیثیں کوفہ میں زیادہ مشہور ہوئیں۔

۲؎ یعنی مسلمان مسجد میں جمع ہوں اور ہر ایک دوسرے سے کہے کہ تو نماز پڑھا۔مقصد یہ ہے کہ قریب قیامت جہالت ایسی عام ہوجائے گی کہ مسلمانوں کے مجمعوں میں کوئی امامت کے قابل نہ ملے گا،بعض دفعہ لوگ اکیلے اکیلے نماز پڑھ کر چلے جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تکلفًا امامت کو ٹالنا بھی ممنوع ہے۔ مرقاۃ نے یہاں فرمایا اس حدیث کی بناء پر علماء نے امامت،تعلیم قرآن و غیرہ عبادتوں پر اجرت جائز کی تاکہ مسجدیں ویران نہ ہوجائیں۔