حدیث نمبر 344

روایت ہے حضرت ابوعطیہ عقیلی سے فرماتے ہیں کہ مالک ابن حویرث ۱؎ ہمارے پاس ہماری مسجد میں آتے اور بات چیت کیا کرتے تھے ایک دن نماز کا وقت آگیا ابو عطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا آگے بڑھیے نماز پڑھائیے وہ بولے کہ تم اپنے کسی آدمی کو آگے بڑھاؤ جو تمہیں نماز پڑھائے اور میں بتاؤں گا کہ میں نماز کیوں نہیں پڑھاتا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کسی قوم کی ملاقات کو جائے وہ ان کی امامت نہ کرے ان کی امامت انہیں میں کا کوئی کرے ۲؎ (ابوداؤد، ترمذی،نسائی)مگر نسائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ پر کفایت کی۔

شرح

۱؎ آپ صحابی ہیں،صرف ۲۰ روزحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے، بصرہ میں قیام ر ہا، ۹۴ھ؁ میں،وہیں وفات پائی۔

۲؎ مالک ابن حویرث کو پوری حدیث نہ پہنچی،وہاں یہ تھا کہ ان کی بغیر اجازت امامت نہ کرے،اس لیے آپ نے اجازت کے باوجود نماز نہ پڑھائی، یہ ہے صحابہ کا انتہائی تقویٰ،شارحین نے اس کے اور وجوہ بیان کیے ہیں مگر یہ وجہ بہت قوی ہے۔