حدیث نمبر 345

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم کو اپنا نائب کیا تاکہ لوگوں کو نماز پڑھائیں حالانکہ اور وہ نابینا تھا ۱؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی جب آپ غزوۂ تبوک میں تشریف لے گئے،تو حضرت علی مرتضٰی کو مدینہ منورہ کی حفاظت اہل وعیال کی نگہداشت دشمنوں کے انتظام کا خلیفہ بنا گئے اور عبداﷲ ابن ام مکتوم کو نماز کی امامت کا چونکہ علی مرتضیٰ اتنی ذمہ داریوں کے ہوتے امامت کے فرائض انجام نہیں دے سکتے تھے اس لیے آپ پر پابندی نہیں لگائی گئی اور چونکہ باقی لوگوں میں عبداﷲ ابن ام مکتوم کی برابر کوئی عالم نہ تھا اس لیے باوجود نابینا ہونے کے آپ کو امام بنایا گیا۔خیال رہے کہ حضرت ابن ام مکتوم کی امامت اتفاقی تھی مگر صدیق اکبر کی امامت اتفاقی نہ تھی وہاں تو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس قوم میں ابوبکر ہوں وہاں کسی اور کو امامت کا حق نہیں لہذا صدیق اکبر کی امامت ان کی خلافت کی دلیل تھی،مگر یہ امامت خلافت کی دلیل نہیں۔فقیر کی اس تقریر سے اس حدیث پر سے حسب ذیل اعتراضات اٹھ گئے:

(۱)یہ حدیث صحیح نہیں کیونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر علی مرتضیٰ کو خلیفہ بنایا تھا یہ حدیث اس کے خلاف ہے۔

(۲)علی مرتضیٰ جیسے فقیہ و عالم کی موجودگی میں انہیں امام کیوں بنایا گیا۔

(۳)نابینا کی امامت مکروہ ہے پھر انہیں امام کیوں بنایا گیا۔

(۴)معلوم ہوا کہ صدیق اکبر کو نماز کا امام بناناآپ کی خلافت کی دلیل نہیں،ورنہ ابن ام امکتوم بھی خلیفہ ہونے چاہیںم۔ خیال رہے کہ نابینا کی امامت مکروہ نہیں صرف خلاف اولیٰ ہے مگر جب نابینا عالم قوم ہو تو خلاف اولیٰ بھی نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم کو دوبارہ اپنا خلیفہ بنایا ہے،بعض نے فرمایا کہ اس امت میں عبس وتولیٰ والے واقعہ کا بدلہ کرنا مقصود تھا۔