أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰى ۞

ترجمہ:

اور نہ آپ جنت میں پیاسے رہیں گے اور نہ دھوپ کی تپش محسوس کریں گے

نیز فرمایا آپ جنت میں نہ بھوکے رہیں گے اور نہ برہنہ 118اور نہ آپ جنت میں پیاسے رہیں گے اور نہ دھوپ کی تپش محسوس کریں گے۔119

انسان کو پیٹ بھر کر کھانا مل جائے، پھر سیر ہو کر پینے کے لئے پانی مل جائے، تن ڈھانپنے کے لئے کپڑا مل جائے اور درختوں کا سایہ میسر ہوجائے تو یہ اس کے لئے بہت اہم اور بڑی نعمتیں ہیں۔

حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں یہ نعمتیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل تھیں اور ان نعمتوں کی انسان کو اس وقت قدر ہوتی ہے جب یہ نعمتیں اس کو میسر نہ ہوں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ان نعمتوں کی اضداد کا ذکر فرمایا کہ جنت میں آپ نہ بھوکے رہتے ہیں نہ پیاسے نہ برہنہ ہوتے ہیں اور نہ آپ کو مشقت کرنا ہوگا اس لئے آپ شیطان کے بہکانے میں نہ آئیں تاکہ آپ کو جنت سے جانا نہ پڑے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 119