أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰى ۞

ترجمہ:

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا اس نے انکار کردیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے انکار کردیا پس ہم نے آدم سے فرمایا : یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ یہ آپ دونوں کو جنت سے نکلوا دے، تو آپ مشقت میں پڑجائیں گے بیشک آپ جنت میں نہ بھوکے رہیں گے اور نہ برہنہ اور نہ آپ جنت میں پیاسے رہیں گے اور نہ دھوپ کی تپش محسوس کریں گے (طہ :116-119)

ابلیس کی حضرت آدم سے عداوت کی وجوہ 

ان آیات میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں :

(١) سجدہ کرنے کا حکم سب فرشتوں کو دیا گیا تھا یا بعض کو

(٢) سجدہ کی کیا تعریف ہے

(٣) آیا ابلیس فرشتوں میں سے تھا یا جنتا میں سے تھا

(٤) آیا ابلیس حضرت آدم کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے کافر ہوا یا پہلے سے کافر تھا۔

ان امور پر ہم البقرہ 3439 میں تفصیل سے بحث کرچکے ہیں۔

ایک سوال یہ ہے کہ ابلیس جو حضرت آدم (علیہ السلام) سے عداوت رکھتا تھا اس کی عداوت کا کیا سبب ہے، مفسرین نے اس کے حساب ذیل جوابات ذکر کیے ہیں :

(١) ابلیس بہت زیادہ حسد کرنے والا تھا، جب اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے اوپر اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ نعمتیں دیکھیں تو وہ ان سے حسد کرنے لگا اور یہی اس کی عداوت کا سبب تھا۔

(٢) حضرت آدم (علیہ السلام) نوجوان عالم تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور آدم کو کل اسماء سکھا دیئے اور ابلیس بوڑھا ہونے کے باوجود جاہل تھا کیونکہ اس نے صرف مادہ خلقت دیکھ کر خود کو حضرت آدم سے افضل قرار دیا اور جو بھڑا جاہل ہو وہ ہمیشہ نوجوان عالم سے دشمنی رکھتا ہے۔

(٣) ابلیس کو آگ سے پیدا کیا گیا اور حضرت آدم کو پانی اور مٹی سے پیدا کیا گیا اور پانی اور مٹی اور آگ میں اپنی اصل کے اعتبار سے عداوت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 116