أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡا لَوۡلَا يَاۡتِيۡنَا بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ ‌ؕ اَوَلَمۡ تَاْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِى الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى‏ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا یہ اپنے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے، کیا ان کے پاس وہ واضح دلیل نہیں آچکی جو پہلی کتابوں میں ہے ؟

طہ :133 میں فرمایا اور انہوں نے کہا یہ اپنے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لائے، کیا ان کے پاس وہ واضح دلیل نہیں آچکی جو پہلی کتابوں میں ہے ؟

کفار نے اپنے اس کلام سے یہ وہم پیدا کیا کہ ان کو غبیر کسی دلیل اور معجزہ کے ایمان لانے کا مکلف کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کیا پہلے صحائف میں ان کے پاس واضح دلائل نہیں آ چکے تھے اور اس میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر کئی وجوہ سے دلیل ہے :

(١) قرآن مجید کی متعدد آیات سابقہ آسمانی کتابوں کے موافق ہیں حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی درس میں جا کر پڑھنا لکھنا نہیں سکیھا تھا اور نہ کسی استاذ سے استفادہ کیا تھا اور یہ اس کی دلیل ہے کہ یہ تمام امور آپ کو غیب سے حاصل ہوئے تھے یہ آپ کا معجزہ ہے۔

(٢) سابقہ آسمانی کتابوں میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور بعثت کی بشارت ہے۔

(٣) کیا ان کو سابقہ آسمانی کتابوں سے یہ نہیں معلوم ہوچکا کہ ہم ان قوموں کو عذاب بھیج کر ہلاک کرچکے ہیں جنہوں نے نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کیا اور جب ان کو ان کے فرمائشی معجزات دے دیئے گئے اور وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے تو ہم نے ان قوموں پر عذاب بھیج کر ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 133