أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ‌ ؕ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آزمانے کے لئے دنیا کیا آرائش اور زیبائش کی جو چیزیں دے رکھی ہیں آپ ان کی طرف ہرگز آنکھیں نہ پھیلائیں، آپ کے رب کا دیا ہوا ہی بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے

مشکل الفاظ کے معانی 

ولاتمدن عینیک : اصل میں مد کا معنی ہے کھینچنا، جو وقت دراز ہو اس کو مدت کہتے ہیں، مددت عینی الی کذا میں نے فلاں چیز کی طرف آنکھیں پھاڑ کر آنکھیں پھیلا کر دیکھا، امداد کا لفظ پسندیدہ چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے اور مد کا لفظ ناپسندیدہ چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

وامددنھم بفاکھۃ ولحم مما یشتھون (الطور : ٢٢) ہم ان کو ان کے پسندیدہ میوے اور گوشت بہت زیادہ دیں گے۔ 

ایحسبون انما نمدھم بہ من مال و مبین (المومنون :25) کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کے مال اور اولاد کو بڑھا رہے ہیں۔ (المفردات ج ٢ ص 600، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

یعنی دوسروں کے پاس جو مال و متاع ہے اور دنیا کی زیب وزینت کی چیزیں ہیں آپ ان کو اچھا سمجھتے ہوئے رغبت سے اس کی طرف لمبی نظر نہ کریں اور یہ تمنا نہ کریں کہ آپ کو بھی ان جیسی چیزیں مل جائیں۔

ازواجا : اس کا معنی ہے اصنافا و اشکالا یعنی مختلف اقسام اور مختل شکل و صورت کی چیزیں۔

زھرۃ الحیوۃ الدنیا : دنیاوی زندگی کی آرائش اور زیبائش کی پررونق اور چمکتی دمکتی چیزیں۔

ورزق ربک : یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے جو اجر وثواب کا ذخیرہ کر رکھا ہے، یا دنیا میں آپ کو جو نبوت سے سرفراز فرمایا ہے اور ہدایت پر آپ کو برقرار اور ثابت قدم رکھا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 131