أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ لَــكَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسَمًّىؕ ۞

ترجمہ:

اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی مقدر نہ ہوچکی ہوتی اور ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو ان کو اسی وقت عذاب آچمٹتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی مقدر نہ ہوچکی ہوتی اور ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو ان کو اسی وقت عذاب آچمٹتا سو آپان کی باتوں پر صبر کیجیے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے رہیے طلوع آفاتب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے، اور رات کے بعض اوقات میں اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح پڑھیے تاکہ آپ راضی ہوجائیں (طہ :129-130)

آپ کی تکذیب کرنے کے باوجود کفار کو عذاب نہ دینے کی وجوہ 

اس بات سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کو خبر دینا اور لوح محفوظ میں یہ لکھ دینا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت خواہ اپنے رسول کی تکذیب کریں ان کے اوپر پچھلی امتوں کی مثل عذاب نہیں بھیجا جائے گا جو ان سب کو ہلاک کر دے اور ان کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دے، اس کی متعدد وجوہ ہیں :

(١) کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مکذبین میں سے بعض ایمان لے آئیں گے۔

(٢) ان مکذبین کی نسل میں سے بعض ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو مسلمان ہوجائیں گے اگر ان سب پر عذب نازل کردیا جاتا تو وہ لوگ بھی ہلاک ہوجاتے۔

(٣) اللہ تعالیٰ یہ فرما چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ آپ کے ہوتے ہوئے ان پر کوئی عذاب دے (الانفال :33)

(٤) اللہ تعالیٰ یہ فرما چکا ہے : ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (الانبیاء :107) اور عذاب بھیجنا رحمت کے منافی ہے، پہلے انبیاء اپنی امتوں کے لئے عذاب کا مقدمہ بن کر آتے تھے اگر ان کی امت ان کی تکذیب کرتی تو ان کی امتوں سے عذاب ٹل نہیں سکتا تھا اور آپ اپنی امت کے لئے رحمت کا مقدمہ بن کر آئے آپ کے ہوتے ہوئے ان پر عذاب آ نہیں سکتا تھا۔

(٥) اللہ تعالیٰ مالک ہے وہ جس کو چاہے عذب دے اور جس کو چاہے اپنے فضل کی بنا پر عذاب سے مستثنٰی کردے۔

نزول عذاب کی معیاد 

اس آیت میں جس میعاد کا ذکر کیا گیا ہے ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر کا دن ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ قرآن مجید میں ان دونوں میعادوں کا ذکر ہے :

سیھزم الجمع ویولون الدبر (القمر :45) عنقریب (جنگ بدر میں) اس جماعت کو شکست دی گی اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگے گی۔

بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامرا (القمر :46) بلکہ ان کے وعدہ کا وقت قیامت ہے اور قیامت بہت سخت اور بہت تلخ ہے۔

اگر یہ میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو ان پر اسی وقت عذاب لازم ہوجاتا، کیونکہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتے تھے اور آپ کو ایذا پہنچاتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ خبر دی کہ وہ کسی قوم کو یا کسی فرد کو اس کا وقت پورا ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 129