أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَنَّاۤ اَهۡلَكۡنٰهُمۡ بِعَذَابٍ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَـقَالُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَـيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخۡزٰى‏ ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم رسول کو بھجینے سے پہلے انہیں عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ ضرور کہتے کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم (عذاب میں) ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیری ایٓتوں کی اتباع کرلیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر ہم رسول کو بھیجنے سے پہلے انہیں عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ ضرور کہتے کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہمار طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم (عذاب میں) ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی اتباع کرلیتے آپ کہئے کہ سب انتظار کر رہے ہیں سو تم بھی انتظار کرو عنقریب تم جان لو گے کہ سیدھے راستے والے اور ہدیات یافتہ کون لوگ ہیں (طہ :134-135)

اشیاء میں اصل اباحت ہے 

اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اگر بالفرض ہم رسول کے بھیجنے سے پہلے ان کو عذاب سے ہلاک کردیتے تو پھر ان کے لئے یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہیں بھیجا، لیکن اب جب کہ ہم نے آپ کو پیغام دے کر ان کی طرف بھیج دیا ہے اور ان کی زبان میں ان کو بتادیا ہے کہ ان کے اوپر کیا فرئاض اور واجبات ہیں تو اب ان کے لئے کوئی عذر نہیں ہے بلکہ ان کے خلاف حجت قائم ہوچکی ہے۔

ہمارے علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ کسی چیز کا وجوب حکم شرعی سے ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اگر حکم شرعی کے بغیر وجوب ثابت ہوجاتا تو رسول کو بھیجنے سے پہلے بھی کفار پر عذاب آسکتا تھا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے، یعنی احکام شرعیہ کے وارد ہونے سے پہلے ہر کام کا کرنا یا نہ کرنا مباح اور جائز تھا اور جب احکام شرعیہ آگئے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کام کے کرنے کا حکم دے دیا تو وہ واجب ہوگیا اور جس کام کے کرنے سے منع فرما دیا وہ حرام ہوگیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 134