أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا جَعَلۡنٰهُمۡ جَسَدًا لَّا يَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوۡا خٰلِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

ہم نے ان رسولوں کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے والے تھے

بشری تقاضوں کی وجہ سے آپ کی رسالت پر اعتراض کا جواب 

الانبیاء :8 میں ہے : ہم نے ان رسولوں کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ صدنیا میں) ہمیشہ رہنے والے تھے، کفار مکہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق یہ طعن کرتے تھے :

(الفرقان : ٧) اور کافروں نے کہا یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے، اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو اس کے ساتھ (عذاب سے) ڈراتا۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کفار کے اس اعتراض کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان رسولوں کے ایسے جسم نہیں بنائے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں تو اگر ہمارے رسول (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانا کھاتے ہوں تو ان کی نبوت پر اعتراض کی کیا وجہ ہے ! اس طرح رسول دنیا میں ہمیشہ نہیں رہتے اور اپنا وقت پورا ہونے پر دور سے انسانوں کی طرف فوت ہوجاتے ہیں اور ان کے رسول ہونے کی بناء اور نبی ہونے کا سبب کھانے پینے سے بری ہونا اور ہمیشہ زندہ رہنا نہیں ہے بلکہ ان کے رسول ہونے کا سبب ان کے ہاتھوں پر معجزات کا ظہور ہے اور ان کا گناہوں سے اور برے کاموں سے بری ہونا اور ان کی معصوم اور پاکیزہ سیرت ہے اور امور تبلیغیہ میں ان سے جھوٹ کے صدور کا محال ہونا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد والی آیت میں فرمایا۔

پھر ہم نے ان کے سامنے (اپنا) وعدہ سچا کر دکھایا تو ہم نے ان کو اور جن کو ہم نے چاہا نجات دی اور حد سے تجاوز کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔ (الانبیاء : ٩)

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 8