“اسلام اور نسلی امتیاز و تعصب “

امریکہ کی ریاست” مینیسوٹا “میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام “جارج فلائیڈ” نامی شخص کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے پُرتشدد شکل اختیار کرتے ہوئے مختلف شہروں میں پھیل گئے ہیں ایک ویڈیو کلپ میں ایک “سفید فام” پولیس آفیسر ایک غیر مسلح جارج فلوئیڈ نامی سیاہ فام آدمی کی گردن پر گھٹنے ٹیکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس واقعے کے چند منٹ بعد 46 سالہ جارج فلوئیڈ کی موت ہو جاتی ہے اس دردناک واقعہ سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ امریکہ سمیت دیگر حقوق انسانی کے علمبردار ممالک میں نسلی، قومی،مذہبی امتیاز اور سیاہ فام لوگوں کے تعلق سے تعصب اور نفرت بہت زیادہ ہے اور بہت دنوں سے افریقی نژاد امریکیوں کے تعلق سے “زینو فوبیا” کی مہم چل رہی ہے جس طرح اسرائیل میں فلسطین سمیت عرب ممالک کے تعلق سے نفرت کا ماحول ہے ،جس طرح ہمارے ملک میں کچھ شر پسند عناصر ایک مخصوص کمیونٹی( مسلم)کے تعلق سے نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور خود یہاں کے مسلمانوں میں اونچی ذاتی اور نیچی ذاتی کے درمیان کشمکش جاری ہے، جس طرح عرب ممالک میں بعض عربی عجمی یا غریب مسلم ممالک کے تعلق سے تعلق رکھنے کی وجہ سے تعصب رکھتے ہیں اور نسل پرستی کے شکار ہیں اسی طرح یہاں ذات پات اور برداری کو لے کر ہے اب یہاں کے مسلمانوں کی پہچان ذات ،برادری کے نام پر ہونے لگی ہے اور دوسری طرف غیر مسلم ذات پات اور برداری کے بندھن کو توڑ کر مذہب کے نام پر ایک ہو رہے ہیں اور چاہے جس عہدہ پر جائیں سب سے پہلے مذہب و ملت کو سامنے رکھتے ہیں اور ہمارے یہاں اگر کسی کو بڑا عہدہ مل گیا تو وہ مذہب کو ثانوی شے سمجھتا ہے یا مذہب و ملت سے بے تعلق ہو جاتا ہے اور مسلمانوں نے موجودہ دور میں ذات پات اور برداری کو سب کچھ مان لیا ہے اور سمجھ لیا ہے! اب لوگوں کا تعارف اسلام و مسلمان،علم و ہنر، تقوی و پرہیزگاری کے بجائے ” برادری ،ذات پات” سے ہوتا ہے زیادہ تر لوگ اپنی برادری کے ہی لوگوں کو آگے بڑھانے میں کوشاں رہتے ہیں اگر ہرکوئی اپنی برادری کی سماجی، تعلیمی اور معاشی بدحالی کو دور کرنے کی کوشش کرکے تو بہت ہی اچھی بات ہے لیکن جب نسلی امتیاز کے تصور کے ساتھ ساتھ اپنی برادری کو “اعلی” سمجھتے ہوئے اور سامنے والی کی برادری کو “ادنی” سمجھتے ہوئے دوسری برادری کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے تو تو یہ نسلی تعصب و امتیاز کی ایک بدترین نظیر ہے جس طرح آج کل امریکہ میں دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں ہر شعبے میں سیاہ فام کو سفید فام کی ذریعہ تعصب و تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ! اور ایک طرف ہمارے اعمال دوسری طرف جب ہم اسلامی تعلیمات اور ہدایات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جس میں رنگ، نسل، زبان، وطن اور قومیت کی کوئی تمیز نہیں ہے، جس میں چھوت چھات اور تفریق و تعصب کا کوئی تصور موجود نہیں ہے جس میں شریک ہونے والے تمام انسان خواہ کسی قوم، نسل، وطن، رنگ اور زبان سے تعلق رکھنے والے ہوں بالکل مساویانہ حقوق کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں۔ اس میں جس طرح طرح کامیابی کے ساتھ انسانی مساوات اور وحدت کے اصولوں کو مسلم معاشرے میں عملی صورت دی گئی ہے، اس کی کوئی نظیر دنیا کے کسی ملک، کسی دین اور کسی نظام میں کہیں نہیں پائی گئی اور صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس نے دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے مختلف قبیلوں اور قوموں کو ملا کر ایک امت بنا دیا ہے جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ألحمدلله الذی أذهب عنکم عيبة الجاهلية و تکبرها بأباها الناس رجلان برتقی وفاجر شقی هين علی اﷲ، والناس بنو آدم و خلق اﷲ آدم من تراب.(سيوطی، الدر المنثور،7: 579) ترجمہ’’شکر ہے اس خدا کا جس نے تم سی جاہلیت کا عیب اور غرور دور فرمایا، اے لوگوں! تمام انسان صرف دو قسم کے ہیں۔ ایک نیک، پرہیزگار، اللہ کی نگاہ میں عزت والا۔ دوسرا فاجر بدبخت جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہوتا ہے۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے بنایا‘‘ اور دوسری جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے”حجۃ الوادع” کے موقع پر ارشاد فرمایا:يٰا أيّها الناس ان ربکم واحد لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لأسود علی أحمر ولا لا حمر علی أسود إلا بالتقوی إن أکر مکم عند اﷲ أتقٰــکم ألا هل بلغت؟ قالوا بلی يا رسول اﷲ قال فليبلغ الشاهد الغائب.(بيهقی، شعب الايمان، 4 : 289، الرقم :5137)ترجمہ:’’اے لوگوں ! سن لو، تمہارا خدا ایک ہے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی کالے کو سرخ اور کسی سرخ کو کالے پر تقوی کے سوا کوئی فضیلت نہیں۔ بے شک تم میں اللہ کے نزدیک معزز وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔سنو! کیا میں نے تمہیں بات پہنچا دی؟ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ہاں! فرمایا تو جو آدمی یہاں موجود ہے وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دے جو موجود نہیں‘‘ اور ایک حدیث میں ہے :إن اﷲ لا ينظر إلی صورکم وأموالکم ولکن ينظر إلی قلوبکم و أعما لکم.(ابن ماجه ، السنن ،2 : 1388، الرقم : 4143)’’ترجمہ بے شک اللہ تمہاری صورتیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دل اور تمہارے عمل دیکھتا ہے‘‘

اس لیے ہمیں بحیثیتِ امت مسلمہ ” المسلم کالجسد” کے طور پر زندگی گزارنا چاہئے ورنہ یہ تفریق ہمیں تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچا دے گی ۔

محمد عباس الازہری