أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً ‌ ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ‌ ۚ هٰذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِىَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِىۡ‌ ؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۙ الۡحَـقَّ‌ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

کیا انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں ؟ آپ کہیے تم اپنی دلیل لائو، یہ میرے عہد کے لوگوں کے لئے نصیحت ہے اور مجھ سے پہلوں کی نصیحت بھی موجود ہے بلکہ ان میں سے اکثر حق کو نہیں جانتے، اس لئے وہ منہ موڑ رہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں ڈ آپ کہیے کہ تم اپنی دلیل لائو، یہ میرے عہد کے لوگوں کے لئے نصیحت ہے اور مجھ سے پہلوئوں کی نصیحت بھی موجود ہے، بلکہ ان میں سے اکثر حق کو نہیں جانتے اس لئے وہ منہ موڑ رہے ہیں اور ہم نے آپ سے پہلے جس کو بھی رسول بنا کر بھیجا اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ بیشک میرے سوا کوئی عبادت کا مستحقن ہیں سو تم میری عبادت کرو (الانبیاء :24-25)

اللہ تعالیٰ کے شریک نہ ہونے پر دلیل 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ان مشرکوں کا، اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود قرار دینا بہت سنگین جرم ہے، ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے شریک ہونے پر کوئی عقلی یا نفلی دلیل موجود نہیں، پچھلے زمانوں میں جنہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا انہوں نے بھی اپنی خدائی پر یا اللہ تعالیٰ کے شریک ہونے پر کوئی دلیل قائم نہیں کی تھی، اور جن کو مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا اب معبود مانتے ہیں انہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے نہ اس دعویٰ کی ان کے پاس کوئی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دعویٰ کیا کہ وہ واحد لاشریک ہے اس نے اس دعویٰ کو ثابتک رنے کے لئے انبیاء اور رسل بھیجے، کتابیں اور صحائٹف نازل کئے، اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی اس جہان کا پیدا کرنے والا تھا اور اللہ عزوجل کا کوئی شریک تھا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی توحید کے رد میں کوئی اپنا نمائندہ بھیجا ؟ کوئی کتاب نازل کی ؟ کوئی دلیل پیش کی ؟ تو ہم بغیر ثبوت کے کیسے مان لیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بھی اس جہان کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور وہ اس کا شریک ہے ؟

قرآن مجید اور کتب سابقہ کے تین محامل 

نیز اس آیت میں فرمایا : یہ میرے عہد کے لوگوں کے لئے نصیحت ہے اور مجھ سے پہلوں کی بھی نصیحت موجود ہے۔ آیت کے اس حصہ کے متعدد محامل ہیں :

(١) یہ وہ کتاب ہے جو مجھ پر نازل کی گی ہے اور جو کتابیں مجھ سے پہلے انبیاء پر نازل کی گئی ہیں، یعنی تو رات، انجیل اور زبور وہ بھی موجود ہیں اور ان میں سے کسی کتاب میں یہ مذکور نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہو کہ میرے سوا کسی اور کو خدا قرار دے لو، بلکہ سب کتابوں میں یہی لکھا ہوا ہے کہ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں سو تم صرف میری عبادت کرو۔

(٢) میرے پاس جو قرآن مجید ہے اس میں جس طرح اس امت کے احوال ہیں اسی طرح اس میں مجھ سے پہی امتوں کے بھی احوال ہیں۔

(٣) آپ ان سے کہئے کہ میں تمہارے پاس جو کتاب لے کر آیا ہوں اس میں میرے دور کے موافقین اور مخالفین کے بھی احوال ہیں اور مجھ سے پہلے موافقین اور مخلافین کے بھی احوال ہیں تم ان میں سے جس کے طریقہ کو اختیار کرنا چاہتے ہو کرلو۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی دلیل کو ذکر کیا پھر ان سے یہ مطالبہ کیا کہ تم جو یہ دعیٰ کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا شریک ہے تم اس دعویٰ پر کوئی دلیل پیش کرو، پھر فرمایا ان کے پاس اپنے شرک پر کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی دلیل ہے بلکہ ان کا دعویٰ بےبنیاد ہے اور ان کے عقائد محض جہالت اور اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقید پر مبنی ہیں اسی وجہ سے یہ لوگ آپ کی دعوت سے منہ موڑ رہے ہیں اور آپ نے ان کے سامنے جو دعوت پیش کی ہے وہ کوئی نئی دعوت نہیں ہے آپ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ صرف میں عبادت کا مستحق ہوں سو تم صرف میری عبادت کرو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 24