أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَمۡ يَرَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ كَانَـتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰهُمَا‌ ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَىۡءٍ حَىٍّ‌ ؕ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ (بارش نازل ہونے سے) آسمان اور (سبزہ اگانے سے) زمین بند تھے تو ہم نے دونوں کو کھول دیا اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز بنائی تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ (بارش نازل ہونے سے) آسمان اور (سبزہ اگانے سے) زمین بند تھے، تو ہم نے دونوں کو کھول دیا، اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز بنائی تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے ! اور ہم نے زمین میں اونچے اونچے پہاڑ بنا دیئے تاکہ لوگوں کے بوجھ سے زمین ایک طرف ڈھلک نہ جائے اور ہم نے اس زمین میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ہدایت حاصل کریں اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنادیا اور وہ اس (آسمان) کی نشانیوں سے اعتراض کرنے والے ہیں اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ہر ایک اپنے مدار میں تیر رہا ہے (الانبیاء :30-33)

زمین اور آسمان کے فتق اور رتق کا معنی 

اولم یرالذین کفروا : اس سے مراد حاسہ بصر سے دیکھنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد علم اور جاننا ہے، یعنی کیا کافروں نے یہ نہیں جانا۔

رتقا : دو چیزوں کا ملا ہوا ہونا، خواہ وہ قدرتی اور پیدائشی طور پر ملی ہوئی ہوں، یا صنعت اور کاری گری سے دو چیزوں کو ملا دیا ہو یا دو چیزیں چیک کر ایک ہوگئی ہوں، اور اس کا معنی بند ہونا بھی ہے۔

ففتقنھما : الفق کا معنی ہے دو متصل چیزوں کو الگ الگ کرنا، یہ رتق کی ضد ہے، دو جڑی ہوئی چیزوں کو الگ الگ کر کے ایک دوسرے سے متمیز کردینا۔

آسمان اور زمین کے رتق اور فتق کی مفسرین نے حسب ذیل تفسیریں کی ہیں :

(١) عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے آسمان بند تھے۔ ان سے بارش نہیں ہوئی تھی اور زمین بند تھی اس سے سبزہ نہیں اگتا تھا، پھر آسمان کو بارش سے کھول دیا گیا اور زمین کو سبزہ اگانے کے ذریعہ کھول دیا گیا، عطا اور مجاہد اور ضحاک سے بھی یہی مروی ہے۔

(٢) العوفی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ آسمان اور زمین پہلے ملے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو کھول کر الگ الگ اور متمیز کردیا، حسن، سعید بن جبیر اور قتادہ سے بھی یہی روایت ہے۔

(٣) ابونیع نے مجاہد سے روایت کیا ہے اللہ تعالیٰ نے زمین سے چھ زمینیں اور نکالیں تو وہ سات زمینیں ہوگئیں اور آسمان سے چھ آسمان اور نکالے تو وہ سات آسمان ہوگئے۔ (زاد المسیر ج ٥ ص 348، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، 1415 ھ)

اس اشکال کا جواب کہ بعض چیزوں کو پانی سے نہیں بنایا گیا۔

نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز بنائی۔

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف اشیاء کو مختلف چیزوں سے پیدا کرنے کے متعلق فرمایا ہے مثلاً ارشاد ہے :

(الحجر :27) تمام چلنے پھرنے والوں کو اللہ نے پانی سے پیدا کیا ہے اور اس سے پہلے ہم نے جنات کو بغیر دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا۔

اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا :

خلقہ من تراب (آل عمران :59) ہم نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ اور حضرت حواء کے متعلق فرمایا :

ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا (الاعراف :189) وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کیا۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ہم نے ان کو پھونک سے پیدا کیا :

والتی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من زوحنا وجعلنھا وابنھا ایۃ للعلمین (الانبیاء :91) اور جس صمریم) نے اپنی عفت کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور ہم نے اسے اور اسکے بیٹے کو تمام جہانوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنادیا۔

اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود بھی اللہ عزوجل کے اذن سے پھونک مار کر پرندے پیدا کردیتے تھے :

واذ تخلق من الطین کھیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیھا فتکون طیراً باذنی (المائدۃ :110) اور جب تم میرے اذن سے مٹی سے پرندے کی طرح صورت بناتے تھے، پھر تم اس میں پھونک مارتے تو وہ میرے حکم سے پرندہ ہوجاتی تھی اور احادیث میں ہے کہ فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے۔ 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنات کو بغیر دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم کو اس چیز سے پیدا کیا گیا ہے جو تم کو بتائی گئی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2996)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا، حضرت حواء کو خود حضرت آدم سے پیدا کیا، حضرت عیسیٰ کو پھونک سے پیدا کیا اور حضرت عیسیٰ نے بھی بعض پرندوں کو اپنی پھونک سے پیدا کیا، فرشتوں کو نور سے پیدا کیا اور جنات کو بغیر دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا، تو پھر علی العموم یہ کہنا کس طرح درست ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو پانی سے بنایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سوال میں جو صورتیں ذکر کی گئی ہیں وہ اس قاعدہ کلیہ سے مستثنیٰ ہیں اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، ہر قاعدہ سے کچھ افراد مستثنیٰ ہوتے ہیں۔

ہر حیوان کو اللہ تعالیٰ نے نطفہ سے پیدا کیا ہے اور وہ پانی ہے اور درختوں، سبزہ زاروں اور نباتات میں بھی ایک نوع کی حیات ہوتی ہے اور اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے پانی سے پیدا کیا ہے فرمایا :

فانظرالی اثر رحمت اللہ کیف یحییٰ الارض بعدموبھا (الروم :50) پس آپ اللہ کی رحمت کے آثار دیکھیں کہ وہ کس طرح زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو زندہ کردیتا ہے۔ غرض حیوانات اور نباتات اور ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔

پانی سے ہر چیز کی حیات کے متعلق سائنس کا نظریہ 

زندگی اور قوت میں ایک باریک فرق ہوتا ہے زندگی ایک طرح سے عضو یاتی ڈھانچہ ہوتا ہے جبکہ قوت حیات کو اس ڈھانچے کا مقرر کردہ کام سرانجام دینا ہوتا ہے۔ یہع نظریہ جو کسی حد تک مشکل سے سمجھ میں آتا ہے ایک مثال کے ذریعہ با آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔

زمین میں کچھ وائرس اور کچھ بیکٹیریا یا اپنے اردگرد کے حالات کی وجہ سے اپنی کارگزاری ظاہر نہیں کرسکتے یعنی وہ نہ ہی حرکت کرسکتے ہیں اور نہ ہی مزید تخلیق کرسکتے ہیں۔ جیسے ایک طرح سے جامد زندگی۔ مخصوص حالات میں یہ اپنی حرکت کی صلاحیت حاصل کرلیتے ہیں اور تخلیقی عمل بھی شروع کردیتے ہیں۔ یہاں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی عبارت ہے وائرس اور بیکٹیریا کی ساکت اور متحرک حالت سے جبکہ قوت حیات (Vitality) کا مطلب صرف ان کی محرک حالت ہی ہے۔

آیت کریمہ میں جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ زندہ ہونا جو قوت حیات (Vitality) کے مترادف ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کرچکا ہیں کہ قرآنی آیات میں لفظ انتہائی اہم رازوں کے حامل ہوتے ہیں۔

آیئے اب دوبارہ آیت کریمہ کی طرف لوٹیں۔ اس کے اصل معنی اس طرح ہیں ” ہم نے تمام زندہ چیزوں کو پانی سے پیدا کیا ہے “ آیئے اب اس آیت میں اہم نکات کی نشاندہی کریں۔

(الف) پندہر صدیاں قبل زندگی کا تصور جانوروں تک محدود تھا۔ بعض حلقوں میں نباتات پودوں کو بھی اس زمرے میں شامل سمجھا جاتا تھا جبکہ دوسری طرف یہ آیت انتہائی صراحت سے جانوروں اور نباتات سے ماورا نظر یہ پیش کرتی ہے۔ ” تمام چیزوں “ کی تعریف میں ’ چیز “ کے نظریہ سے قوت حیات (Vitality) بہت سی نوع کی چیزوں کا احاطہ کرتی ہے۔ قرآن کے اس ایک بیان سے قوت حیات کے نظریہ کو اتنی وسعت مل جاتی ہے کہ یہ وائرس اور (DNA) مالیکیول وغیرہ کا مکمل احاطہ کرلیتی ہے اس طرح ایک سائنسی حقیقت کو چودہ صدایں قبل ہی انسانیت کو بطور پیشگی بتادیا گیا۔

(ب) قوت حیات پانی ہی سے نکلتی ہے اور پانی ہی سے توانائی حاصل کرتی ہے آیت مبارکہ تخلیق ’ د (خلقنا) “ نہیں کہتی بلکہ کہتی ہے قوت دی ”(وجعلنا) “۔

(ج) اس کے بعد آیت اس اعلان پر ختم ہوتی ہے کہ ” پھر وہ کیوں نہیں مانتے ؟ “ اس کا اشارہ کفار کی طرف ہے یہ بات بطور خاص ہمرے موجودہ دور کے کفار کے لئے ہے اس لئے کہ ابھی صرف تیس سال قبل ہی تو قوت حیات کے لئے پانی کے ناگزیر ہونے کی حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے۔

آیئے اب غور کریں کہ ابھی حال ہی میں علم حیاتیات کے قوانین کی دریافت کے مطابق قوت حیات کے لئے پانی ہی کیوں ناگزیر سمجھا یا ہے ؟

ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ حیات کی بنیادی اکائی یعنی اس کا نمائندہ ایک سالمیہ ہے جسے (DNA) کہتے ہیں قوت حیات صرف اسی سالمیے میں ہوتی ہے اگر یہ سالمہ صرف پانی ہی کے سالمیہ سے پیدا ہوتا تو یہ آیت اس طرح سے ہوتی ہم نے تمام زندہ چیزوں کو پانی سے پیدا کیا “ جبکہ قوت حیات ایک نئے اور ایک ہی جیسے سالمیے کی بناوٹ ہے جس نے نامیاتی کیمیا (Chemicals) اصلی یا ابتدائی سالمیے سے حاصل کئے ہوتے ہیں۔

جدید علم حیاتیات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پانی کے سالمیوں کے H+اور آئن (ION) OH-(رواں برقی پارہ کے جوہر یا جواہر) کے ذریعے پیدا ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر (ATP) جو فاسفورس، امینوایسڈ اور شکر کا مرکب ہوتا ہے کہ آمیزش کے عمل میں پانی H+آئن ہی اسعتمال ہوتا ہے، تابکار ہائیڈروجن (TRITIUM) کے ساتھ تجربات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ڈی این اے سالمیے ہائیڈروجن آئن (ION) صرف پانی ہی سے حاصل کرتے ہیں۔ اسی تجربے نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ہائیڈروجن آئن جسے ” حرکت پذیر ہائیڈروجن “ کہتے ہیں رائبوز شکر اور امینوایسڈ نکلائیڈ کے درمیان ایک مسلسل برقی میدان بیان کیا ہے، کہ قوت حیات اس وقت حرکت پذیر ہوجاتی ہے جبکہ یہ برقی میدان بیکٹیریا ایک زندہ مگر خوابیدہ حالت میں ہوتا ہے یعنی بیکٹیریا حرکت پذیر ہو کر مزید پیدائش کے عمل میں لگ جاتا ہے۔

یہ اصول تمام قسم کے جسمیوں (Organisms) کے متعلق بھی اسی طرح ہے۔ یعنی خلیے (Cells) صرف ہائیڈروجن کی مدد سے ہی اپنی مصروفیات یا حرکت جاری رکھ سکتے ہیں۔ خلیوں کی کیمسٹری پر تحقیق نے یہ ظاہر کیا ہے کہ تمام برقی ہائیڈروجن کی مدد سے ہی اپنی مصروفیات یا حرکت جاری رکھ سکتے ہیں۔ خلیوں کی کیمسٹری پر تحقیق نے یہ ظاہر کیا ہے کہ تمام برقی سلسلے خلیے میں لائسو سوم (Lysosome) اور پانیکے برقی چارج (Ions) کی مدد سے قائم رہتے ہیں۔ مزید کہ تمام کیمیائی سلسلے، خلیاتی لیبارٹیر جسے ہم مٹوکونڈریا (Mitochondria) کہتے ہیں پانی کے آئن کی وساطت سے ہی کارگر ہوتے ہیں۔

” بھاری پانی “ کے ساتھ تجربات میں جہاں ہائیڈروجن کو آئسوٹوپس سے تبدیل کردیا جائے یہ ثابت ہوا ہے کہ پانیکا سالمہ جسم میں سات سے چودہ دن تک رہتا ہے پھر خارج ہوتا ہے اور پانی کے نئے آئن اس کی جگہ لے لیتے ہیں اس طرح پانی نئی اور تازہ قوت حیات مہیا کرنے کا باعث ہے یہی وجہ ہے کہ جسمیے پانی کے ختم ہونے (شدید پیاس) کو برداشت نہیں کرسکتے۔

پانی اور قوت حیات کا تعلق اسی پر ختم نہیں ہوجاتا۔ عام معنی میں قوت حیات کے لئے توانائی کی ضرورت مسلسل طور پر رہتی ہے یہ توانائی آئن کے تبادلہ سے حاصل ہوتی ہے خوراک کے کھانے کا عمل کیمیائی ربط اور بعض سالموں کے تحلیل ہونے سے پیدا ہونے والی برق سے متشابہ عمل پیدا کرتا ہے، ان تمام پھرتیلے اعمال میں خلیہ H+اور Oh آئن تبادلے کی بنیاد مہیا کرتے ہیں، جیسے بین الاقوامی تجارت میں زریا تبادلہ زر کی اصطلاح ہوتی ہ۔ ایک خلیہ اس وقت صحتمند ہوتا ہے جب پانی کے دو آئن جو اسے گھیرے میں لئے ہوتے ہیں خود توازن میں ہوں ورنہ یا تو بیماری آجاتی ہے یا موت واقع ہوجاتی ہے۔

چنانچہ پانی، زندگی کی جین (Genesis) اور قوت حیات کی بنیاد ہے اور یہ آیت کریمہ اس لطیف موشگافی کو اس خوبصورتی سیباین کرتی ہے کہ اس سلسلے میں قرآنی معجزہ کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یہ اس حقیقت کو دوبارہ پر زور طریقہ سے بیان کرتی ہے کہ ” کس طرح وہ ایمان نہیں لاتے۔ “

خلیے کا تنفس یعنی طاقت بخش چیزوں کا خرچ، آئن کے تبادلے کا ایک خاص عجوبہ ہے جو پانی کے آئن سے تعلق رکھتا ہے، پانی اور قوت حیات کے درمیان عظیم تعلق کو ابھی تک تسلی بخش طریقہ سے ظاہر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً الیکٹرو کیمسٹری (Electro chemistry) اور بائیو کیمسٹری (Bio chemistry) یہ پوری طرح نہیں بتاسکتے کہ ایک خاص وقت کے بعد پانی کے سالمے کیوں ضائع ہوجاتے ہیں۔ مزید یہ امر کہ ایک خلیہ کس طرح پانی کا ذخیرہ کرتا ہے ابھی تک صحیح طور پر دریافت نہیں ہوسکا۔ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ خلیہ میں کھانے والے نمک یا سوڈیم کلورائیڈ کے استعمال کا مقصد سالموں میں پانی کے خرچ اور اس کے جمع ہونے سے متعلق ہے۔

درحقیقت ہر جسمیہ اپنی مختصر لیبارٹری میں پانی نقدی کی طرح خرچ کرتا ہے اسی وجہ سے ہمارے جسم میں گلینڈز (غدودوں) میں خاص قسم کے ہارمون پیدا ہوتے رہتے ہیں جو خلیوں کے اپنے اندر اور ایک دور سے کے درمیان پانی کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔ جسم میں موجود بہت سے مراکز بدن کی رطوبت کو جدا کرنے والے گلینڈز سے ایک کمپیوٹر جیسے نظام کے ذریعے منسلک ہیں۔ مثلاً بخار سے پہلے فالتو پانی نکل جاتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جسم اس قسم کی مدافعتی جنگ میں مصروف ہے جس میں بیکٹیریا کی موجودگی یا حملہ مشکل ہوجائے۔ ہمارے جسم نقصان دہ جراثیم کو زندہ رہنے کی مہلت نہیں دیتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل اس آیت کریمہ کے راز کے احساس کے تحت ہی وقوع پذیر ہے۔

چنانچہ یہ عظیم معنی اللہ کے اس کلام میں پوشیدہ ہیں کہ ” ہم نے تمام چیزوں کو پانی کے توسط سے پیدا کیا۔ “ (قرآنی آیات اور سائنسی حقائق ص 82-85 مطبوعہ کراچی :2000 ء)

سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر تیس میں حقیقتاً صحیح طور پر پوچھا گیا ہے کہ ان بےپناہ نشانیوں کی موجودگی میں کس طرح ایک شخص کافر اور منکر رہ سکتا ہے۔

ایک لمبے عرصے سے بےدین ملحد لوگ، افراتفری اور درہم برہم چیزوں کو ہی کائنات کی تشکیل کا ذریعہ بتاتے رہے ہیں مگر وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ ان سب کو ترتیب دینے والی ایک عظیم ہستی کے بغیر افراتفری کو ایک کائنات کی شکل نہیں دی جاسکتی۔ ورنہ تو یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے افراتفری ہی کی صورت میں ہوتی ہے۔

مزید برآں اگر عظیم منتظم (اللہ) کا وجود کائناتوں کو ہر وقت اور ہر مقام پر سنبھالے نہ ہوتا تو یہ پراگندہ ہو کر افتراتفری کا شکار ہوجاتیں اور یہ افراتفری ایک سیکنڈ کے ایک ارب ویں حصے کے وقت ہوجاتی۔ مگر اللہ کے قائم کردہ تنائو چستی (ٹٹینشن) ہی کی وجہ سے کائنات کے ہر مقام پر ایک ناقابل یقین ترتیب اور ڈسپلن موجود ہے، اور سورة الشوریٰ کی آیت نمبر پانچ اللہ جل شانہ کی اس قوت کو ظاہر کرتی ہے جو فضائوں کے ہر مقام کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس عظیم الشان ڈسپلن اور قوت کو جو ساری کائنات میں جاری وساری ہے کو سورة الملک میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آیت نمبر چار میں پھر اس طرح فرمایا گیا ” پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے ؟ باربار نگاہ دوڑائو “ تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی۔ “

سورۃ الانبیاء میں پھر کس طرح یہ سوال کر کے ” پھر بھی وہ ایمان نہ لائیں گے ؟ “ اللہ تعالیٰ یہ واضح اعلان کر رہا ہے کہ کفر ایک معمولی سے معمولی علم سے بھی مطابقت نہیں رکھتا اور یہ نامطابقت ملحدوں کی مکمل لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں فزکس اور کائناتی فزکس نے قرآن کی نفی کے متام ممکانات کو ختم کردیا ہے۔ اسی طرح اللہ کے وجود سے انکار کو بھی ناممکن بنادیا ہے چناچہ ایک ملحد شخص کا تو ” سائنس کے شہر “ میں داخل ہہی ممنوع ہے۔ (قرآنی آیات اور سائنسی حقائق ص 123-128 مطبوعہ کراچی 2000 ء)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 30