أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ‌ؕ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِىۡ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ۞

ترجمہ:

انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے، عنقریب میں تم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائوں گا سو تم مجھ سے جلد بازی نہ کرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے، عنقریب میں تم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائوں گا سو تم مجھ سے جلد بازی نہ کرو وہ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟ کاش ان کافروں کو اس وقت کا علم ہوتا جب یہ اپنے چہروں اور اپنی پیٹھوں سے آگ کو دور نہ کرسکیں گے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی بلکہ وہ (قیامت) ان کے پاس اچانک ہی آجائے گی اور وہ اس کو مسترد کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا (بھی) مذاق اڑایا گیا تھا، سو مذاق اڑانے والوں کو اس عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے (الانبیاء :37-41

عجلت کا انسان کی فطرت میں داخل ہونا 

اس آیت میں فرمایا : انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے، اس میں انسان سے کیا مراد ہے اس میں تین قول ہیں ایک یہ کہ اس سے جنس انسان مراد ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے حضرت آدم علیہ اسللام مراد ہیں، اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے نصر بن حارث مراد ہے۔

اگر یہ مراد لیا جائے کہ اس آیت میں انسان سے جنس انسان مراد ہے تو پھر اس کی تقریر اس طرح ہے کفار عذب الٰہی کے رسول میں جلدی کرتے تھے وہ کہتے تھے اگر یہ نبی برحق ہیں اور ہم ان کی تکذیب کرنے میں جھوٹے ہیں تو چاہیے کہ فوراً ہم پر عذاب آئے، یا وہ یہ کہتے تھے کہ اگر یہ نبی سچے ہیں تو ان کو چاہیے کہ یہ بہت جلد ایسے معجزات لے کر آئیں جن کی وجہ سے ہم فوراً ایمان لے آئیں، یا جن نشانیوں کا ہم نے مطالبہ کیا ہے ان نشانیوں کو وہ جلد از جلد لے آئیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں :

امام محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

جب حضرت آدم میں رح پھونکی گئی تو جب وہ روح ان کے سر میں پہنچی تو ان کو چھینک آئی، فرشتوں نے کہا آپ کہیے الحمد اللہ، حضرت آدم نے کہا الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا رحمک ربک، آپ کا رب آپ پر رحم کرے، پھر جب روح آپ کی آنکھوں میں پہنچی اور آپ نے جنت کے پھلوں کی طرف لپکے تو یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مصداق ہے کہ انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔

مجاہد نے اس کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ حضرت آدم کو تمام چیزوں کے پیدا کرنے کے بعد دن کے آخری حصہ میں پیدا کیا گیا جب روح ان کی آنکھوں، زبان اور سر تک پہنچی اور ابھی سر کے نچلے حصہ میں نہیں پہنچی تھی تو انہوں نے کہا اے میرے رب میری خلقت کو غروب شمس سے پہلے مکمل کر دے۔ امام ابن جریر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے یعنی انسان کی فطرت اور خلقت میں عجلت رکھی گی ہے۔ (جامع البیان جز 17 ص 35-37 ملحضاً مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ) اور عطا نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد نضر بن الحارث ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کفار جو عذاب کی طلب میں عجلت کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ عذاب کی وعید کی تکذیب کرتے تھے درحقیقت وہ عجلت نہیں کرتے تھے بلکہ عذاب کی وعید کو جھوٹا کہتے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس اعتبار سے وہ زیادہ لائق مذمت ہیں، کیونکہ جو چیز معلوم ہوا اور پتا ہو کہ وہ کب حاصل ہوگی تو اس کی طلب میں عجلت رنا لائق مذمت ہے تو جس چیز کے وقوع کا وقت معلوم نہ ہو اس کی طلب میں عجلت کرنا تو زیادہ لائق مذمت ہے، نیز وہ عذاب کی طل میں جلدی کرتے تھے یا قیامت کی طل میں جلدی کرتے تھے، حالانکہ عذاب کا آنا یا قیامت کا آنا تو ان کی ہلاکت کا موجب ہے پس اس سے زیادہ لائق مذمت اور کیا چیز ہوگی کہ وہ اپنی ہلاکت کی طلب میں جلدی کرتے تھے۔

عجلت کی بناء پر کفار کی مذمت کی توجیہ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : عنقریب میں تم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائوں گا سو تم مجھ سے جلد بازی نہ کرو۔ اس آیت میں نشانیوں کی تفسیر میں تین قول ہیں :

(١) عنقریب تم کو دنیا میں جلد ہلاک کردیا جائے گا خواہ آسمانی عذاب کے ذریعہ خواہ کسی جہاد میں، جیسے جنگ بدر میں کفار مارے گئے پھر اس کے فوراً بعد تم کو اخروی عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اس لئے فرمایا یہ امر عنقریب ہونے والا ہے تم اس کے مطالبہ میں جلدی نہ کرو۔

(٢) ان نشانیوں سے مراد توحید اور رسالت کے دلائل ہیں اور قرآن مجید کی آیات میں یہ دلائل تفصیل سے بیان کردیئے گئے ہیں۔

(٣) تم شام اور یمن کی طرف سفر کرتے رہتے ہ، وہاں دوران سفر تم نے گزشتہ قوموں کی بستیوں کی ہلاکت اور تباہی کے آثار دیکھے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 37