🌍 سُکُونِ زمین 🌍

ـــــــــــــــــــــــــــــ

آئن سٹائن کی Theory of relativity حرکتِ زمین کا مسکت جواب ہے… اس تھیوری کے مطابق کسی بھی شے کی حرکت (motion) کی نسبت مشاہدہ کرنے والے سے ہے، یعنی ایک شے بہ یک وقت متحرک و ساکن دیکھی جا سکتی ہے۔

جیسے ٹرین میں بیٹھے شخص کو باہر سے دیکھنے والا متحرک گمان کرے گا، لیکن مسافر کے نزدیک اندر بیٹھے تمام لوگ ساکن ہوں گے۔” إنما الأشياء تُعرف بأضدادها“ کے مصداق حرکت کو سکون کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس بات کو ایک اور مثال سے سمجھیے…. آپ نے گاڑی میں سفر کرتے یہ مشاہدہ کیا ہو گا، گاڑی کے باہر درخت اور جھاڑیاں متحرک نظر آتی ہیں… پاس والی زیادہ تیز… دور والی آہستہ…. کیا وہ واقعی متحرک ہیں…؟

نہیں، آپ ان کو اپنی نسبت سے دیکھ رہے ہیں، باہر کھڑے شخص کے لیے وہ ساکن ہی ہیں۔

سائنس زمین کے متحرک ہونے کا دعوی کرتی ہے، تو ان کے دعوی کی بنیاد مشاہدے پر ہے، وہ زمین کی حرکت یا سکون کو دیگر سیاروں اور ستاروں سے تقابل کر کے ہی سمجھتے ہیں۔ اب معاملہ سمجھنا آسان ہو گیا ــــــ خلا بازوں (astronomers) کو زمین متحرک محسوس ہوئی (اگر واقعی ہوئی…..!!) تو ان کے اذہان میں یہ بھبوکا پھوٹا…. ہو نہ ہو زمین گھومتی ہے…. اب عقل کے اندھے اپنی بنائی تھیوریز ہی بھول گئے…. کیا لازم ہے کہ زمین ہی متحرک ہو، جن ساکن چیزوں سے اس کا تقابل کیا گیا، مکمن ہے وہ متحرک ہوں اور یہ ساکن ….. (ممکن نہیں، حقیقتاً ایسا ہی ہے) آخر حرکت کا اعتبار تو relative ہے۔

آخر کیوں اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا، اس کے پیچھے NASA کے کئی مقاصد ہیں…. عوام جن کے اجسام تو اجسام… عقلیں بھی جمود کا شکار ہو چکی ہیں…. خصوصاً مغرب زدہ پروفیسرز اس معاملے میں سائنس کے اندھے مقلد ہیں۔

سائنس کے مقلد چاہے اسے بات کو تسلیم نہ کریں لیکن مسلمان کے پاس اسے ماننے کے علاوہ کوئی راہ نہیں کہ” زمین ساکن ہے“ ۔

علما اس جانب بھی اپنی توجہ مبذول فرمائیں اور سائنس کو آئینہ دکھا کر اس کے چودہ طبق روشن کریں….. ایسا نہیں کہ ہمارے پاس بس یہی دلائل ہیں، ہمارے بڑے ہمارے لیے بہت کچھ چھوڑ گئے…. اور ایسا چھوڑ گئے جو فلاسفہ کی گردنیں توڑنے کو کافی ہے۔

کاشکے کوئی با ہمت مرد مجاہد آگے بڑھے!!

✍🏻 محمد شعیب صفدر