ضعیف حدیث فضائل میں قابل قبول ھے ❤️

الدکتور محمو الطحان تیسیر مصطلح الحدیث میں تدریب الراوی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

محدثین وغیرہ کے نزدیک ضعیف حدیث اور جنکی سندوں میں تساہل ھے انکا ضعف بیان کیے بغیر بیان کرنا دو شرطوں کے ساتھ جائز ھے۔لیکن بالاتفاق موضوع روایات کو وضع کا ذکر کیے بغیر روایت کرنا بالکل جائز نہیں ھے۔

ضعیف روایت کو روایت کرنے کی دو لازمی شرطیں:

(1) انکا تعلق عقائد سے نا ہو جیسے صفات باری تعالیٰ

(2) حلال و حرام سے متعلق شرعی احکام کے بیان میں نہ ہوں ۔

یعنی ضعیف احادیث کو وعظ و تقریر، اعمال صالحہ پر عمل کرنے، اعمال بد کے نتائج بد سے بچانے اور ان جیسے مواقع پر بیان کرنا جائز ھے اور جن علماء سے انکے بیان کرنے میں تساہل منقول ھے وہ سفیان ثوری، عبدالرحمن بن مھدی اور امام احمد بن حنبل ہیں۔

(تدریب الراوی 1/298,299)

نوٹ۔ ضعیف حدیث پر عمل کے متعلق حکم العمل بہ کے تحت امام ابن حجر عسقلانی کا موقف بھی لکھا ھے خواہش مند حضرات پڑھ سکتے ہیں۔

احمدرضارضوی