أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَا زَالَتۡ تِّلۡكَ دَعۡوٰٮهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

ان کا مسلسل یہی کہنا رہا حتی کہ ہم نے ان کو کو ٹی ہوئی فصل کی طرح کردیا زندگی کی حرارت سے بجھا ہوا

حصیدا : جڑ سے کاٹی ہوئی کوئی چیز، کٹی ہوئی کھیتی، کھلیان، یعنی اس قوم کو عذاب سے ہلاک کر کے اس طرح نیست و نابود کردیا تھا جس طرح درانتی سے کسی فصل کو کاٹ دیا جائے۔

خامدین : خمود کا معنی ہے بجھنا، یعنی ان لوگوں میں زندگی کی کوئی چنگاری باقی نہیں رہی تھی اور وہ مردہ ہوچکے تھے۔

کفار مکہ کو پچھلی قوموں کا عذاب سنانا 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر کفار کے اعتراضات اور ان کے جوابات کا ذکر فرمایا تھا، اور ان آیتوں میں ان کو ان سے پہلی امتوں کا یحوال سے ڈرایا ہے، جس طرح یہ کفار سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے پیغام توحید کو قبول نہیں کر رہے اور اپنے آباء و اجداد کی تقلید میں بت پرستی اور کفر اور شرک پر اصرار کر رہے ہیں، اس طرح ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے لوگوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ ایک نبی کو پیغام توحید دے کر بھیجتا وہ اس پیغام کو قبول نہ کرتے اور پیہم اس کا انکار کرتے اور جب اللہ کا نبی ان کو ڈراتا اور یہ کہتا کہ اگر تم نے میر اپیغام قبول نہ کیا تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا جو تم سب کو ملیا ملیٹ کر دے گا اور تمہاری پوری آبادی تباہ اور برباد کردی جائے گی تو پھر وہ اس نبی کا مذاق اڑاتے اور اس سے عذاب کا مطالبہ کرتے، اور جب وہ اس عذاب کے آثار کو دیکھتے تو خوف زدہ ہو کر بھاگتے، پھر ان سے کہا جاتا اب بھاگو مت ! اپنی ان ہی آرام گاہوں اور عشرت کدوں کی طرف واپس جائو، تاکہ تم سے یہ سوال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی اس وقت انہوں نے اعتراف کیا کہ ہائے افسوس سچ بیشک ہم ظلم کرنے والے تھے، پھر ان قوموں پر ایسا عذاب آیا جس نے ان سب کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ ان آیات میں کافر مکہ کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو وہ اس طرح کے عذاب کے مستحق ہیں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت کی وجہ سے ان پر ایسا عذاب نازل نہیں فرمایا۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 15