أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَـفَسَدَتَا‌ۚ فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا معبود ہوتے تو وہ ضرور درہم برہم ہوجاتے، سو اللہ جو رب العرش ہے وہ ان چیزوں سے پاک ہے جو یہ مشرکین بیان کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا معبود ہوتے تو وہ ضرور درہم برہم ہوجاتے، سو اللہ جو رب العرش ہے وہ ان چیزوں سے پاک ہے جو یہ مشرکین بیان کرتے ہیں اس سے ان کاموں کا سوال نہیں کیا جائے گا جو وہ کرتا ہے اور ان سب سے باز پرس کی جائے گی (الانبیاء :22-23)

اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے پر عقلی دلائل 

الانبیاء :22 میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلیل قائم کی گئی ہے اس کو برھان تمانع کہتے ہیں یہ بہت مشہور دلیل ہے اس کی بہت تقریریں ہیں ہم سطور ذیل میں اس کی چند تقریریں پیش کر رہے ہیں۔

(١) اگر وہ خدا فرض کئے جائیں اور ان میں سے ہر خدا ایک معین وقت میں زید کے حرکت کرنے کا ارادہ کرے اور دوسرا خدا اسی وقت میں زید کے سکون کا ارادہ کرے تو یا تو دونوں خدائوں کا ارادہ پورا ہوگا اور اس سے لازم آئے گا کہ زید اسی وقت میں حرکت بھی کرے اور ساکن بھی ہو اور یہ اجتماع ضدین ہونے کی وج ہ سے محال ہے اور یا وہ صرف حرکت کرے گا تو جس خدا نے اس کے ساکن ہونے کا ارادہ کیا تھا اس کا ارادہ پورا نہیں ہوگا سو وہ خد نہیں ہوگا اور یا وہ صرف ساکن ہوگا تو جس خدا نے اس کے حرکت کرنے کا ارادہ کیا تھا اس کا ارادہ پورا نہیں ہوگا سو وہ خدا نہیں ہوگا، غرض یہ کہ جب دو خدا فرض کئے جائیں تو ان میں سے ایک خدا ہوگا اور دوسرا خدا نہیں ہوگا۔

(٢) اگر یہ کہا جائے کہ دونوں خدا اتفاق سے کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے اختلاف نہیں کرتے تو ہم کہیں گے کہ ان کا ایک دوسرے سے اختلاف کرنا ممکن تو ہے اور اس تقدیر پر کس کا ارادہ پورا ہوگا ؟ جس کا ارادہ پورا ہوگا وہی خدا ہوگا دوسرا خدا نہیں ہوگا۔

(۳)اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے اختلاف نہیں کرتے تو ضرور ان میں سے ایک دوسرے کی موافقت کریگا تو جو موافقت کریگا وہ تابع ہوگا اور دوسرا متبوع ہوگا اور تابع خدا نہیں ہوسکتا 

(۴) اگر دو خدا ہوں تو ضروری ہوگا ان میں سے ہر ایک تمام مقدورات کو وجود میں لانے پر قادر ہو اور ایک معلول کے لئے دو مستقل علتوں کا ہونا محال ہے، اول تو اس لئے کہ علت تامہ کا اپنے معلول سے ختلف محال ہے اور جب معلول ایک علت سے حاصل ہوگیا تو دوسری علت کا ہونا عبث ہوا، اور ثانیاً اس لئے کہ جب ایک علت کے لئے دو مساوی مستقل علتیں ہوں تو اس معلومل کو ایک علت سے صادر ماننا نہ کہ دوسری علت سے یہ ترجیح بلا مرجح ہے، اور اگر وہ دونوں علتیں مل کر معلومل کو صادر کرتی ہیں تو ان میں سے کوئی علت بھی مستقل نہیں ہوگی ان میں سے ہر ایک علت ناتمام اور دور سے کی محتاج ہوگی۔

(٥) جب ہم دو خدا فرض کرتے ہیں تو اس عالم کو خلق کرنے اور اس کی تدبیر کے لئے ان میں سے ایک اکیلا خدا کافی ہے یا نہیں اگر وہ اکیلا اس عالم کی خلق اور تدبیر کے لئے کافی ہے تو دوسرے کو ماننا عبث ہے اور اگر ان میں سے ایک اکیلا اس عالم کی خلق اور تدبیر کے لئے کافی نہیں ہے تو پھر وہ ناقص ہے اور ناقص خدا نہیں ہوسکتا۔

(٦) اگر فرض کیا جائے ایک خد اس عالم کے خلق اور اس کی تدبیر کے لئے کافی نہیں ہے اور اس کو دوسرے کی بھی ضرورت پڑتی ہے تو کیا ضروری ہے کہ دو مل کر کافی ہوجائیں ان کو تیسرے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے، چوتھے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے اور یہ ضرورت کسی ایک عدد پر موقف نہیں ہوگی اور اس طرح غیر متناہی خدائوں کی ضرورت ہوگی۔

(٧) اگر وہ خدا فرض کئے جائیں تو ان میں سے ایک خدا اس پر قادر ہوگا کہ اس کی مخلوق صرف اس کی خدائی پر دلالت کرے نہ کہ دوسرے خدا کی خدائی پر اگر وہ اس پر قادر نہ ہو تو یہ اس کا عجز ہوگا اور عاجز خدا نہیں ہوسکتا اور اگر وہ اس پر قادر ہو تو یہ محال ہے کیونکہ مخلوق اور مصنوع تو صرف اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس کا کوئی خالق اور صانع ہے نہ کہ اس پر کہ اس کا فلاں صانع اور خالق ہے فلاں اس کا صانع اور خالق نہیں ہے۔

(٨) اگر دو خدا فرض کئے جائیں تو دونوں میں سے کوئی ایک اپنی مخلوق کو دوسرے خدا سے چھپانے پر قادر ہوگا یا نہیں اگر ایک خد اپنی مخلوق کو دوسرے خدا سے چھپانے پر قادر نہیں ہے تو اس کا عاجز ہونا لازم آئے گا ورنہ دور سے خدا کا جاہل ہونا لازم آئے گا کیونکہ اس سے ایک خدا کی مخلوق مخفی ہوگی اور اسے اس کا علم نہیں ہوگا۔

(٩) اگر دو خدا ہوں تو دونوں خدائوں کی قوت کا مجموعہ ہر ایک کی قوت سے دگنا ہوگا، پس ہر ایک کی قوت متناہی ہوگی کیونکہ وہ مجموعہ سے کم ہوگی اور جس کی قوت متناہی ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔

(١٠) اگر دو خدا فرض کئے جائیں اور ایک ممکن کو موجود کرنا ہو تو یا تو دونوں مل کر اس کو موجود کریں گے تو دونوں میں سے کوئی بھی خدا نہیں ہوگا کیونکہ ہر ایک دوسرے کا محتاج ہوگا اور یا ان میں سے ہر ایک اس کو مستقل طور پر دور سے سے مستغنی ہو کر اس کو موجود کرسکے گا اس صورت میں جب ایک نے اس کو موجود کردیا تو دوسرے کی قدرت بایق رہے گی یا نہیں اگر اس کی قدرت باقی ہے تو موجود کو ایجاد کرنا لازم آئے گا اور یہ محال ہے کیونکہ ایجاد تو معدوم کو کیا جاتا ہے نہ کہ موجود کو اور اگر اس کی قدرت باقی نہیں رہی تو وہ عاجز ہوگا اور عاجز خدا نہیں ہوسکتا۔

(١١) اگر دو خدا فرض کئے جائیں تو ایک خدا کسی جسم کو دائما محترک کرسکتا ہے یا نہیں، وہ اگر اس کو دائما متحرک نہیں کرسکتا تو یہ اس کا عجز ہوگا اور عاجز خدا نہیں ہوسکتا، اور اگر اس نے ایک جسم کو دائما متحرک کردیا تو دوسرا خدا اس متحرک جسم کو ساکن کرسکتا ہے یا نہیں اگر اس نے محترک جسم کو ساکن کردیا تو پہلے خدا کی قدرت زائل ہوگئی اور وہ خدا نہیں رہا اور اگر وہ اس متحرک جسم کو ساکن نہیں کرسکتا تو یہ اس کا عجز ہے اور وہ خدا نہیں رہا۔

(١٢) شرکت عیب ہے، ہر شخص یہ چاہتا ہے وہ جس چیز کا مالک ہو وہ بلا شرکت غیر مالک ہو، وہ اس چیز میں آزدا انہ، دوسرے کے عمل دخل کے بغیر مالک ہو، اگر دو آدمی مل کر مکان خریدیں تو ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے وہ اس مکان کا اکیلا مالک ہوجائے اور دور سے کو اس کے حصہ کی قیمت دے کر اس کو الگ کر دے اور اگر وہ اس کا تنہا مالک نہیں ہوگا تو ان میں سے ہر ایک منقبض اور تنگ ہوگا اور ہر ایک دور سے کا پابند اور تابع ہوگا اور پابند ہونا، تابع ہونا اور منقبض ہونا الوہیت کے منفای ہے پس ضروری ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک دور سے کی شرکت کو ختم کرے، اگر ان میں سے کوئی بھی دوسرے کی شرکت کو ختم نہ کرسکے تو دونوں عاجز ہوں گے اور عاجز خدا نہیں ہوسکتا اور اگر ان میں سے ایک دور سے پر غالب آگیا اور دوسرا مغلوب ہوگیا تو وہ خدا نہیں رہے گا کیونکہ مغلوب خدا نہیں ہوسکتا۔

اس دلیل کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے :

وما کان معہ من الہ اذاً لذھب کل الہ بما خلق ولعلا بعضھم علی بعض سبحن اللہ عما یصفون (المئومنون :91) اور اللہ کے ساتھ اور معبود نہیں ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو الگ کرلیتا اور ہر ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا اللہ کے لئے یہ لوگ جو شریک بیان کرتے ہیں اللہ ان سے پاک ہے۔

(١٣) خدا کے لئے ضروری ہے کہ وہ واجب الوجود ہو، یعنی اس کے لئے ہونا ضروری ہو اور نہ ہونا محال ہو، پس اگر وہ خدا فرض کئے جائیں تو ان میں سے ہر ایک واجب الوجود ہوگا اور وجوب وجود ان میں امرمشترک ہوگا پھر ان میں کوئی امر ایسا بھی ہونا ضروری ہے جس کی وجہ سے وہ دونوں ایک دور سے سے ممتاز ہوں، پس ان میں سے ہر ایک دو چیزوں سے مرکب ہوگا ایک امر مشترک ہوگا یعنی وجوب وجود اور ایک امر ممیز ہوگا اور جو مرکب ہو وہ حادث ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اور حادث اور محتاج خدا نہیں ہوسکتا۔ یہ دلیل سب سے قوی ہے۔

(١٤) اگر وہ خدا فرض کئے جائیں تو الوہیت میں وہ دونوں مشترک ہوں گے، پھر ان میں کوئی امر ممیز بھی ضرور ہوگا پس ہر وہ مرکب ہوں گے اور جو دو چیزوں سے مرکب ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔

(١٥) ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ہر کثرت کسی وحدت کے تابع ہوتی ہے اور جو کثرت کسی وحدت کے تابع نہ ہو اس کا نظام فاسد ہوجاتا ہے چند کا نسٹیبل ہوں تو ان کے اوپر ایک ہیڈ کا سنٹیبل ہوگا، چند ہیڈ کا نسٹیبل ہوں تو ان کے اوپر ایک سب انسپکٹر ہوگا چند سب انسپکٹر ہوں تو ان کے اوپر ایک انسپکٹر ہو اگ، چند انسپکٹر ہوں تو ان کے اوپر ایک ڈی ایس پی ہوگا، چند ڈی ایس پی ہوں تو ان کے اوپر ایک ایس پی ہوگا، چند ایس پی ہوں تو ان کے اوپر ایک ڈی آئی جی ہوگا اور چند ڈی آئی جی ہوں تو ان کے اوپر ایک آئی جی ہوتا ہے۔ علی ہذا القیاس چند وزراء پر ایک وزیر اعلیٰ ہوتا ہے، چند وزراء اعلیٰ ہوں تو پھر صدر مملکت ایک ہوتا ہے، کسی ملک کے دو صدر نہیں ہوتے دو وزیر اعظم نہیں ہوتے تو پھر اس دنیا کے دو خدا کیسے ہوسکتے ہیں۔

(١٦) ہم دیکھتے ہیں کہ نظام کی وحدت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس کا نظام واحد ہے، کسی نظام کے دو ناظم نہیں ہوتے، اس دنیا میں تکوینی اور طبعی نظام واحد ہے، سورج، چاند اور ستاروں کے طلوع اور غروب کا نظام واحد ہے، انسانوں، حیوانوں، چرندوں اور پرندوں کے پیدا ہونے اور مرنے کا نظام واحد ہے، کھیتوں اور باغوں کی روئیدگی کا نظام واحد ہے، بارش اور بادلوں کا نظام واحد ہے، غرض اس وسیع و عریض کائنات کے ہر شعبہ کا نظام واحد ہے اور ان نظاموں کی وحدت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ان نظاموں کا ناظم بھی واحد ہے۔

عرش عظیم کا رب کہنے کی وجہ 

اس کے بعد فرمایا : سو اللہ جو رب العرش ہے وہ ان چیزوں سے پاک ہے جو یہ مشرکین بیان کرتے ہیں۔

عرش کا ذکر اس لئے فرمایا کہ مشرکین بتوں کو خدا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش عظیم کا رب ہے، آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے، نور، ظلمت، لوح، قلم، اجسام، عناصر، جمادات، نباتات، حیوانات، انسانوں اور فرشتوں کا خالق ہے اس کو چھڑو کر بےجان جامد چیزوں کی پرستش کرنا اور ان کو معبود کہنا جن کو ان کے ہاتھوں نے بنایا ہے کیسی بےعقلی کی بات ہے !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 22