أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

کاش ان کافروں کو اس وقت کا علم ہوتا جب یہ اپنے چہروں سے اور اپنی پیٹھوں سے آگ کو دور نہ کرسکیں گے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

کفار کے استہزاء پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کے استہزاء اور ان کے مذاق اڑانے سے رنج ہوتا تھا اور تکلیف پہنچتی تھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس رنج اور تکلیف کو زائل کرنے کے لئے فرمایا : کاش ان کافروں کو اس وقت کا علم ہوتا جب یہ اپنے چہروں اور اپنی پیٹھوں سے آگ کو دور نہ کرسکیں گے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ (الانبیاء :39) یعنی وہ وقت ان کے لئے سخت مشکل اور عذاب کا ہوگا جب دوزخ کی آگ ان کو آگے اور پیچھے سے گھیر لے گی اور یہ اس آگ کو اپنے نفسوں سے دور کرنے پر قادر نہیں ہوں گے اور ان کو اس وقت کوئی مددگار میسر نہیں ہوگا جو اس آڑے وقت میں ان کے کام آسکے۔ اس آیت میں ان کے چہروں اور ان کے پیٹھوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ان اعضاء پر عذاب بہت شدت کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 39