أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا رَاٰكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّتَّخِذُوۡنَكَ اِلَّا هُزُوًا ؕ اَهٰذَا الَّذِىۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَـتَكُمۡ‌ۚ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور یہ کفار جب بھی آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں (کہتے ہیں) کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خدائوں کا (برائی سے) ذکر کرتا ہے ! حالانکہ وہ خود رحمٰن کے ذکر کا انکار کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ کفار جب بھی آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں (کہتے ہیں :) کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خدائوں کا (برائی سے) ذکر کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے ذکر کا انکار کرتے ہیں (الانبیاء :36)

بتوں کا انتقام لینے کے لئے رحمٰن کی مذمت کرنا 

مقاتل وغیرہ نے کہا ہے کہ یہ آی ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے اس وقت اس کے پاس ابوسفیان بیٹھا ہوا تھا، ابوجہل نے ابوسفیان سے کہا یہ شخص بنو عبدمناف کا نبی ہے۔ ابوسفیان نے کہا کیا تم بنی عبدمناف کے نبی ہونے کا انکار کرتے ہو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی باتیں سنیں تو ابوجہل سے فرمایا : میرا خیال ہے تم اس وقت تک باز نہیں آئو گے جب تک کہ تم پر وہ وبال نازل نہ ہو جو تمہارے چچا ولدی بن مغیرہ پر نازل ہا ہے اور اے ابوسفیان تم نے جو کچھ کہا ہے وہ عار کی بنا پر کہا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ یہ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مذمت اس لئے کرتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کا برائی کے ساتھ ذکر کرتے ہیں حالانکہ ان کے معبود کسی کو نقصان سے بچا سکتے ہیں نہ اس کو نفع پہنچ اسکتے ہیں اور جبکہ یہ رحمٰنی کی برائی کرتے ہیں حالانکہ رحمٰن منعم حقیقی ہے وہ ان کو زندگی دینے والا ہے اور وہی ان پر موت کو طاری کرے گا اور اس سے بری بات اور کیا ہوگی کہ بےجان بتوں کی مذمت کا برا منایا جائے اور اس کے انتقام میں خالق حقیقی اور قادر و مختار کی مذمت کی جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 36