أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا‌ سُبۡحٰنَهٗ‌ ؕ بَلۡ عِبَادٌ مُّكۡرَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا رحمٰن نے اولاد بنا لی ہے، وہ اس سے پاک ہے، وہ سب اس کے باعزت بندے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے کہا رحمٰن نے اولاد بنا لی ہے، وہ اس سے پاک ہے، وہ سب اس کے باعزت بندے ہیں وہ کسی بات میں اس پر سبق نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر ہی عمل کرتے ہیں (الانبیاء :26-27)

مشرکین کے اس قول کا رد کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر دلائل قائم فرمائے تھے اور یہ بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ شریک سے پاک ہے اور ان آیتوں میں یہ بیان فرما رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا بیٹا یا بیٹیاں ہوں۔ ان کافروں نے یہ کہا تھا کہ اللہ عزوجل نے فرشتوں کو اولاد بنا لیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کو بہت سنگین قرار دیتے ہوئے اور ان کے اس الزام سے اظہار برأت کرتے ہوئے فرمایا وہ اس سے پاک ہے وہ سب اس کے باعزت بندے ہیں۔

قتادہ نے کہا کہ یہود کہتے تھے جنات اللہ تعالیٰ کی سسرال ہیں کیونکہ فرشتے بھی ان ہی میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا :

(الصفت :158-159) اور ان مشرکوں نے اللہ اور جنتا کے درمیان نسب کا رشتہ قرار دیا حالانکہ ان جنات کو خوب علم ہے کہ وہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے اللہ ان کے باین کردہ اوصاف سے پاک اور منزہ ہے۔

مشرکین کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات سے رشتہ ازدواج قائم کیا جس سے بیٹیاں پیدا ہوئیں اور وہ بیٹیاں یہی فرشتے ہیں اگر ان کا یہ قول صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ جنات کو عذاب میں کیوں دیتا، کیا وہ اپنی قرابت داری کا لحاظ نہ کرتا ! حالانکہ خود جنات کو بھی علم ہے کہ ان کو اللہ کا عذاب بھگتنے کے لئے دوزخ میں جانا ہوگا، اللہ تعالیٰ ان کے اس افتراء سے پاک ہے اور زیر تفسیر آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا رد فرمایا ہے۔

اولاد والد کے مشابہ ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ واجب اور قدیم ہے اگر فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہوتے تو وہ بھی واجب اور قدیم ہوتے جب کہ وہ ممکن اور حادث ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں نہیں ہیں، نیز اولاد غلام نہیں ہوتی، فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے اور غلام ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد کس طرح ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کے سامنے چون و چرا نہیں کرتے، اس کے حکم کو ماننے میں پس و پیش نہیں کرتے وہ اس کی کامل اتباع کرتے ہیں وہ اس کی اولاد کیونکر ہوسکتے ہیں کیونکہ کوئی شخص اپنی اولاد کو اپنا غلام نہیں بناتا !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 26