أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم نے تباہ کردیں جو ظلم کرتی تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسرے لوگوں کو پیدا کردیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کتنی ہی (یاسی) بستیاں ہم نے تباہ کردیں جو ظلم کرت تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسرے لوگوں کو پیدا کردیا سو جب انہوں نے ہمارے عذاب کو محسوس کیا تو فوراً اس سے بھاگنے لگے (ان سے کہا گیا) اب بھاگو مت ! اور اسی جگہ لوٹو جہاں تمہیں آسودگی دی گئی تھی اور اپنی رہائش گاہوں میں تاکہ تم سے پوچھ گچھ کی جائے انہوں نے کہا : ہائے افسوس ! بیشک ہم ظلم کرنے والے تھے ان کا مسلسل یہی کہنا رہا حتی کہ ہم نے ان کو کاٹی ہوئی فصل کی طرح کردیا، زندگی کی حرارت سے بجھا ہوا (الانبیاء :11-15)

مشکل الفاظ کے معانی :

کم قصمنا : کم کے بعد جو لفظ ذکر ہوتا ہے اس سے اس کی کثرت مراد ہوتی ہے۔ کم قصمنا کے معن ہیں ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کردیا۔ قصم کے معنی ہیں کسی مرکب کو توڑ کر اس کے اجزاء الگ الگ کردینا، اس کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردینا۔ فاصمۃ الظھر کمر توڑنے والی مصیبت کو کہتے ہیں اور فصم کے معنی ہیں کسی چیز کے اجزاء الگ الگ کئے بغیر اس کو کاٹنا یا اس اس کے ٹکڑے کردینا۔

وانشانا بعدھا قوما اخبرین : اس بستی والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو پیدا کردیا۔ 

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 11