أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا (بھی) مذاق اڑایا گیا تھا سو مذاق اڑانے والوں کو اس عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے لئے فرمایا : اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا (بھی) مذاق اڑایا گیا تھا، سو مذاق اڑانے والوں کو اس عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے (الانبیاء :41) یعنی اگر آپ کا یہ کفار مکہ مذاق اڑا رہے ہیں تو آپ رنج اور غم نہ کریں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے اور حق بات کہنے والوں کو ہمیشہ ایسی دل آزار باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 41