أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُـلۡدَ‌ ؕ اَفَا۟ئِن مِّتَّ فَهُمُ الۡخٰـلِدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے آپ سے پہلے کسی بشر کے لئے( دنیا میں) دوام کو مقدار نہیں کیا، سو اگر آپ کی وفات ہوجائے تو کیا یہ لوگ یہاں ہمیشہ رہنے والے ہیں ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے آپ سے پہلے کسی بشر کے لئے (دنیا میں) دوام کو مقدر نہیں کیا، سو اگر آپ کی وفات ہوجائے تو کیا یہ لوگ (یہاں) ہمیشہ رہین والے ہیں ؟۔ ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے، اور ہم تم کو بری اور اچھی حالت میں مبتلا کر کے آزماتے ہیں اور تم سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائو گے۔ (الانبیاء :34-35)

ربط آیات اور شان نزول 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی چیزوں سے اپنی الوہیت اور اپنی توحید پر استدلال فرمایا تھا، اب ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ زمین اور آسمان کی یہ عظیم الشان چیزیں، اس لئے نہیں بنائی گئیں کہ ان کو بقا اور دوام ہو اور ان چیزوں کے لئے بقا اور دوام ہے جن کے لئے یہ چیزیں بنائی گئی ہیں یہ دنیا بھی فنا ہوجائے گی اور اس میں رہنے والے بھی سب فنا ہوجائیں گے۔

یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا رد کرنے کے لئے کہا یہ عنقریب فوت ہو اجئیں گے۔ جیسے فلاں فلاں شاعر فوت ہوگیا تھا پھر ان کا دین اور ان کی تحریک بھی ختم ہوجائے گی اور ان کے پیروکاروں کا جوش و خروش بھی ٹھنڈاپڑ جائے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر آپ فوت ہوگئے تو یہ کوئی نئی بات تو نہیں اس سے پہلے بھی انبیاء (علیہم السلام) فوت ہوتے رہیے ہیں آپ سے پہلے کوئی بشر ہمیشہ نہیں رہا اور تم خوشی سے کیوں بغلیں بجا رہے ہو ؟ آپ کے فوتہ و جانے سے کیا ہوگا ؟ تم بھی تو اس دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے نہیں ہو۔

امام رازی نے کہا ہے کہ یہ بھی احتمال ہے چونکہ آپ خاتم النبین ہیں تو شاید آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے اس لئے فرمایا کہ آپ کا حال بھی دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی مثل ہے جس طرح وہ دائما نہیں رہے آپ بھی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہیں گے اور وقت مقرر پر آپ کی وفات ہوجائے گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 34