أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا خَلَقۡنَا السَّمَآءَ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لٰعِبِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کود کے مشغلہ میں نہیں بنایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کود کے مشغلہ میں نہیں بنایا اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے تو ہم اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے، اگر ہم (اس کو واقعی) بنانے والے ہوتے بلکہ ہم حق سے باطل پر ضرب لگاتے ہیں تو وہ (حق) اس (باطل) کا سر کچل دیتا ہے اور وہ (باطل) اسیوقت ملیا ملیٹ ہوجاتا ہے اور تمہارے لئے ان باتوں کی وجہ سے تباہی ہو جو تم بناتے ہو (الانبیاء، 16-18)

مشکل الفاظ کے معانی 

لعبین، جو کام بےمقصد اور عبث ہو اس کو لعب کہتے ہیں اور ہر وہ کام جو انسان کو اس کے مقصد سے غافل کر دے اس کو لھو کہتے ہیں، مقصد یہ ہے کہ ہم نے زمین اور انسان کو عبث اور بےمقصد نہیں بنایا بلکہ ہم نے ان کو اس لئے بنایا ہے کہ وہ ہماری قدرت پر دلالت کریں اور ہماری الوہیت اور توحید پر دلالت کریں، لعب اور لھو میں یہ فرق بھی کیا جاتا ہے کہ لعب سے کسی غرض صحیح کا ارادہ نہیں کیا جاتا اور لھو سے نفس کو راحت پہنچانا مقصود ہوتا ہے۔

آسمان اور زمین بنانے کی حکمتیں 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے آسمان کی یہ بلند چھت اور زمین کا یہ فرش اور ان کے درمیان یہ عجیب و غریب چیزیں بطور لھو و لعب اور فضول نہیں بنائیں۔ ان کو ہم نے دینی اور دنیاوی فوائد کے لئے بنایا ہے، دینی فائدہ یہ ہے کہ غور و فکر کرنے والے آسمان اور زمین کی خلقت اور بناوٹ میں غور فکر کریں اور ان کے اسرار کو معلوم کر کے صاحب اسرار تک اور صنعت سے صانع اور خلق سے خالق تک پہنچیں اور دنیاوی فوائد بیشمار ہیں، زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے معدنیات کی دولت رکھی ہے، سونا، چاندی، تانبا اور پیتل ہے، کئولہ، تیل اور قدرتی گیس ہے، جن سے انسان اپنی انواع و اقسام کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور زمین میں زرعی پیداوار کی صلاحیت رکھی ہے جس سے انسان اپنی غذا فراہم کرتے ہیں اور زمین کے اوپر انسانوں مویشویں اور پرندوں درندوں کی آبادی ہے اور آسمان میں ثوابت اور سیارے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے عجیب و غریب حکمتیں اور فوائد رکھے ہیں۔ نیز ان آیات میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ہم نے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر معجزات کو ظاہر کیا ہے اور ان کو نبی بنا کر بھیجا ہے اگر بالفرض آپ کا پیغام جھوٹا ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم نے آپ کے ہاتھ پر جو معجزات ظاہر کئے ہیں وہ عبث اور بےفائدہ ہیں اور محض کھیل کود کے مشغلہ کے طور پر آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے، حالانکہ ہمارا کوئی کام لغو اور عبث نہیں ہوتا اور اگر ہم کو کھیل کود کا مشغلہ کرنا ہی ہوتا تو ہم انسانوں کو کیوں پیدا کرتے ہم فرشتوں سے اپنا شوق پورا کرلیتے، بلکہ ہمار اطریقہ تو باطل پر ضرب لگانا ہے، ہم کیھل کود پر سنجیدگی کو مسلط کرتے ہیں، تم جو ہمارے نبی اور رسول کی تکذیب کرتے ہو اور قرآن مجید کو پراگندہ خواب اور جادو سے تعبیر کرتے ہو اور اسی طرح ان پر اور اعتراضات کرتے ہو اور حق سے روگردانی کرتے ہو تو اس طرح تم اپنے آپ کو عذاب اور ہلاکت میں مبتلا کر رہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 16