أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ‌ؕ كُلٌّ فِىۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ہر ایک اپنے مدار میں تیر رہا ہے

ہر سیارہ کا اپنے مدار میں گردش کرنا 

الانبیاء :33 میں فرمایا : اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ہر ایک اپنے مدار میں تیر رہا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک اور نعمت کا بیان فرمایا ہے کہ اس نے رات بنائی جس میں وہ آرام کریں اور دن بنایا جس میں وہ حصول معاش کے لئے جدوجہد کریں اور سورج اور چاند کو بنایا، سورج کو دن کی علامت بنایا اور چاند کو رات کی علامت بنایا تاکہ لوگ مہینوں اور سالوں کا حساب کرسکیں۔

پھر فرمایا : ہر ایک اپنے مدار میں تیر رہا ہے۔ اصل میں فلک ہر دائرہ اور گول چیز کو کہتے ہیں، اسی وجہ سے چرخے میں گول چمڑا لگا ہوتا ہے اس کو فلکتہ المغزل کہتے ہیں اور اسی وجہ سے آسمان کو بھی فلک کہہ دیا جاتا ہے، یہاں فلک سے مراد سورج اور چاند کے وہ مدار ہیں جس پر وہ گردش کرتے ہیں، قرآن اور حدیث میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ مدار آسمان کے اندر ہیں یا خلا میں ہیں۔ قدیم فلاسفہ یہ کہتے تھے کہ یہ مدار آسمانوں میں وہ کہتے تھے کہ پہلے آسمان میں قمر کی مدار ہے اور دوسرے آسمان میں عطارد کی مدار ہے، تیر سے آسمان میں زہرہ کی مدار ہے، اور چوتھے آسمان میں سورج کی مدار ہے، پانچوں آسمان میں مریخ کی مدار ہے اور چھٹے آسمان میں مشتری کی مدار ہے اور ساتویں آسمان میں زحل کی مدار ہے، یہ سات کواکب سیارہ (گردش کرنے والے ستارے) ہیں۔ ان کے بعد آٹھواں آسمان ہے جس کو فلک اطلس اور فلک البروج کہتے ہیں۔ فلک اطلس میں وہ ستارے ہیں جو ثوابت ہیں اور گردش نہیں کرتے۔ یہ وہ ستارے ہیں جو ہم کو یہاں پر زمین سے نظر آتے ہیں۔ ان ستاروں کی ہیئت اجتماعیہ سے مختلف شکلیں بن جاتی ہیں جس کے نام پر بارہ برج فرض کئے گئے ہیں وہ یہ ہیں حمل ثور، جوزا، سرطان، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو اور حوت۔ اس وجہ سے اس آسمان کو فلک البروج بھی کہتے ہیں اور نواں آسمان فلک اعظم ہے۔ علماء شرع کے نزدیک سات آسمان ہیں۔ وہ فلاسفہ کے اقوال میں تطبیق کے لئے آٹھویں آسمان کو کرسی اور نویں آسمان کو عرش کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔

یہ تفصیل قدیم فلسفہ کے مطابق ہے۔ اب حالیہ جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چاند اور سورج افلاک میں مرکوز نہیں ہیں۔ چاند زمین سے پونے دو الکھ میل کی مسافت پر ہے اور کوئی سیارہ کسی آسمان میں مرکوز نہیں ہے اور زمین سمیت تمام سیارے خلا کے اندر اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں اور جب خلا نو رد چاند پر پہنچے تو ان کو زمین بھی چاندی کی طرح ایک روشن گولے کی طرح نظر آئی۔

ہر سیارے کی اپنی گردش کے متعلق سائنس کی تحقیق 

ہماری زمین کے گرد چاند گردش کر رہا ہے اور زمین سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔ یہ دراصل بڑے سیارے یا ستارے کی کشش ثقل (Gravitational Force) کی وجہ سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں چاند کی گردش کا مرکز زمین ہے اور زمین کی گردش کا مرکز سورج ہے اسی طرح سورج کسی اور بڑے مرکز کے گرد مصروف گردش ہے۔ جب ہم زمین پر کوئی چیز پھینکتے ہیں تو وہ تھوڑی دور جا کر گرجاتی ہے اور اگر زور سے پھینکی جائے تو وہ اور دور جا کر گرے گی۔ اس کی مثال پانی کے فوارہ کی ہے اگر ٹیوب کے ذریعے اسے زمین کے متوازی چھوڑا جائے تو وہ ایک گولائی کی سی شکل اختیار کرلیتا ہے اگر پانی کو اور زیادہ دبائو سے چھوڑا جائے تو گولائی لمبائی میں زیادہ نظر آنے لگی گی۔

پانی کی یہ خودبخود گولائی کا بن جانا دراصل زمین کی کشش ثقل (Gracitational Force) کی وجہ ہے کیونکہ زمین اپنی کشش ثقل کی وجہ سے ہر چیز کو اپنے مرکز کی طرف کھینچتی ہے۔ زمین چونکہ گول ہے اس لئے اگر کسی پتھر یا چیز کو زمین کے متوازی (Horizontly) اس رفتار سے پھینکا جائے کہ اس پتھر کے گرنے کا عمل زمین کی گولائی کے مطاب بن جائے تو وہ پتھر زمین پر نہیں گرے گا بلکہ زمین کے اردگرد گردش کرنے لگے گا۔ دراصل پتھر ہر لمحہ زمین پر گرے گا مگر زمین گول ہونے کی وجہ سے اور پتھر بھی خاص رفتار کی وجہ سے زمین کی گولائی کے متوازی ہر لمحے جھکے گا، آج کل کے اسئنس دانوں نے زمین کے گرد جو سیارے (Satelites) بلندی پر چھوڑے ہیں وہ اسی اصول کو مدنظر رکھ کر چھوڑے ہیں تاکہ زمین کے اوپر بلندی پر ہوا ان کی رفتار پر اثر انداز نہ ہو بلکہ ایک ہی رفتار (Orbital Veloctiy) برقرار رہے جس رفتار سے ان کو راکٹ کے ذریعے چھوڑا گیا۔

چاند بھی زمین کی کشش ثقل (Gravitational Force) کی وجہ سے ہر لمحہ اس کے مرکز کی طرف گرتا ہے مگر چاند کی خاص رفتار (Orbital Velocity) کی وجہ سے زمین کی بلندی پر اس کی خاص کشش ثقل کی وجہ سے زمین کے گرد اس کا مدار (Orbit) بن جاتا ہے۔ جو کہ تقریباً گول ہے اس گولائی پر ہر دوسرا نقطہ پہلے نقطہ سے نیچا ہوتا ہے۔ دائرے پر ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ کا فرق یا جھکائو (Fall Of Curve) زمین کی کشش ثقل (Gravitational force) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کشش ثقل بلندی پر کم ہوتی جاتی ہے جس کی وجہ سے رفتار (Orbital Velocity) بھی سطح زمین سے قریب کی نسبت کم درکار ہوتی ہے۔

کسی چیز کو سورج کے کسی سیارے (Planet) کے گرد چلانے (Orbiting) کے لئے خاص بلندی (Particular Height) پر خاص رفتار (Particular Orbital Velocity) اور خاص (Particular Direction) بلندی پر بڑے سیارہ کی نسبتاً کشش ثقل (Proportionate Gravitational force) کے پیش نظر درکار ہوتی ہے۔ اسی اصول سے سورج کے گرد سیارے گردش کر رہے ہیں، دوسرے لفظوں میں یہ سیارے سورج کے مرکز کی طرف ہر لمحہ گرتے ہیں یا جھکتے ہیں مگر خاص بلندی پر خاص رفتار (Oribtal Velocity) کی وجہ سے اور اس بلندی پر اثر انداز سورج کی نسبتاً کشش ثقل (Proportionate Gravitational Force) کی وجہ سے اپنے دائرے (Orbit) میں جھکتے چلے جاتے ہیں اور دائرہ برقرار رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان سیاروں کو سورج کے گرد متحرک ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں خلا میں خاص حساب سے بنایا ہے یہ بغیر حساب کے نہیں بن گئے یا خود بخود نہیں بن گئے۔ اگر ان کی رفتار مقررہ حساب سے بہت زیادہ ہوتی تو یہ سورج کی کشش ثقل سے آزادم ہوجاتے یعنی (Escspe Velocity) اختیار کرلیتے اور کسی دیگر ستارے سے منسلک ہوجاتے۔ لہٰذا یہ سیارے خلا میں مختلف بلندیوں پر بڑے حساب سے بنئاے گئے ہیں اور یہ آج سے چودہ سو سال پہلے اس کے نازل کردہ قرآن مجید کی حقانیت کا واضح ثبوت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(الزمر : ٥) اس نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اور وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے، سب ایک مقرر وقت تک چلتے رہیں گے، سنو وہی بہت غالب اور بہت بخشنے والا ہے۔

الشمس والقمر بحسبان (الرحمٰن : ٥) سورج اور چاند ایک مقرر حساب سے چل رہے ہیں۔

فلکیاتی سائنس کی اصطلاح میں ان کو گرتے ہوئے اجسام یعنی (Falling Bodies) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کائنات میں جو اور سیارے یا ستارے محترک ہیں وہ بھی ایک مرکز کے گرد مصروف گردش ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ اپنے مرکز کی طرف جھکتے ہیں، یہ ستارے یا تمام کائنات اللہ تعالیٰ کے عرش (مرکز) کے گرد متحرک ہیں جس کا قطر یا وسعت تقریباً 32 ارب میل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(فاطر :41 بیشک اللہ آسمانوں اور زمینوں کو تھامے رکھتا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں (اپنے محور سے ہٹ نہ جائیں) اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے جو ان کو تھام کسے۔ بیشک وہ بہت بردبار بہت بخشنے والا ہے۔

زمین کی کشش ثقل (Gravitational Force) نے چاند کو پکڑے رکھا ہے کہ چاند زمین کی طرف گرتا ہے مگر اس کی خاص رفتار کی وجہ سے اس کا ہر لمحہ جھکائو زمین کے چاند کی اونچائی پر دائرے کے مطابق ہے۔ لہٰذا وہ زمین پر نہیں گرتا بلکہ اس کے گرد گردش میں مصروف ہے۔ اسی طرح زمین یا دیگر سیارے سیارے سورج کی کشش ثقل (Gravitational force) کی وجہ سے اس کے گرد مصروف گردش ہیں۔ سورج ایک اور مرکز کے گرد اس مرکز کی کشش ثقل کی وجہ سے چکر لگا رہا ہے اور ایک ستارہ کسی اور دوسرے طاقتور ستارے کے گرد حتیٰ کہ آخری ساترہ یا ستارے اللہ تعالیٰ کی زبردست طاقت والے عرش یا مرکز نور کے گرد مصروف گردش ہیں۔ اب آپ اندازہ کیجیے کہ مرکز نور یا اللہ تعالیٰ کا عرش کس قدر طاقت سے بھرپور ہے کہ وہ تمام کائنات کو تھامے ہوئے ہے۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیت کی وضاحت پوری طرح ہوجاتی ہے کہ ” اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔ “

والشمس تجری لمستقرلھا ذلک تقدیر العزیز العلیم (یٰسین :38) اور سورج اپنے مقرر راستہ پر چلتا رہتا ہے یہ اللہ کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے جو بہت غالب اور بہت علم والا ہے۔

وھو الذی خلق الیل والنھار وا لشمس والقمر کل فی فلک یسبحون (الانبیاء : ٣٣) اور وہی ہے جس نے رات اور دن سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ یہ سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔

ان آیات سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ سورج کی طرح دوسرے ستارے بھی ایک مرکز کے گرد متحرک ہیں۔ جو ستارے مرکز سے دور ہیں ان کی رفتار مشاہدہ میں بہت زیادہہو گی اور جوں جوں ستارے مرکز (عرش) کے نزدیک آتے جائیں گے ان کی رفتار کم نظر آئے گی۔ یہ زاویہ نماز رفتار Angular Velocity کی وجہ سے ہوگی۔ اس کی مثال سائیکل کے پہیے کی سی ہے کہ اس کے ایکسل کی رفتار کم ہوگی جبکہ ایکسل (مرکز) سے باہر کی طرف رم کی رفتار بہت زیادہ ہوگی۔ ماہرین فلکیات کے مشاہدہ کے مطابق جو کہکشائیں بہت دور ہیں وہ بہت تیزی سے حرکت کر رہی ہیں اور جو نزدیک ہیں ان کی رفتار کم ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام کائنات اللہ تعالیٰ کے عرش یعنی مرکز نور کے گرد محترک ہے۔ (قرآن اور کائنات ص 116-123 ملحضاً )

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 33