أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

وہ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟

کفار کی عجلت کے باوجود ان پر فوراً عذاب نازل نہ کرنے کی توجیہ 

کفار کہتے تھے : یہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟ (الانبیاء :38) کفاریہ اس لئے نہیں کہتے تھے کہ واقعی ان کو عذاب کا یا قیامت کا شدت سے انتظار تھا، بلکہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑانے کے لئے اس طرح کہتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(العنکبوت :53) یہ لوگ آپ سے عذاب کو جلد طلب کر رہے ہیں، اگر نزول عذاب کا ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا اور ان پر ان کی بیخبر ی میں ضرور عذاب آئے گا۔

یعنی ان کے اعمال اور اقوال تو یقینا اس لائق ہیں کہ ان کو فوراً صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے لیکن ہماری سنت یہ ہے کہ ہم پر قوم کو ایک خاص وقت تک مہلت دیتے ہیں اور جب وہ مہلت ختم ہوجاتی ہے تو ان پر فوراً عذاب نازل ہوجاتا ہے اور ہم نے عذاب کو نازل کرنے کا ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے اور جب اس کا مقرر شدہ وقت آجائے گا تو ان پر اس طرح عذاب آئے گا کہ ان کو پتا بھی نہیں چلے گا، اگر اس سیم راد دنیا کا عذاب ہے تو اس کی مثال جنگ بدر میں کفار کا مارا جانا ہے اور اگر اس سے مراد قیامت کا عذاب ہے تو قیامت ان پر اچانک آجائے گی۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 38