أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَئِنۡ مَّسَّتۡهُمۡ نَفۡحَةٌ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُوۡلُنَّ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر ان کو آپ کے رب کا عذاب ذرا سا بھی چھو جائے تو یہ ضرور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ہم ضرور ظلم کرنے والے تھے

الانبیاء :46 میں نفحۃ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے ہوا کا جھونکا۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اب تو یہ اپنے تکبر اور سرکشی کی وجہ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن اگر ان کو معمولی سا عذاب بھی چھو گیا تو ان کی ساری اکڑفوں جاتی رہے گی اور اس وقت یہ ضرور کہیں گے کہ ہائے ہماری بدبختی ! اللہ کے رسول تو ہمیں اس عذاب سے بچانے کے لئے آئے تھے، ہم نے خود ہی ان کے پیغام کو مسترد کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 46