أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ وَهُمۡ مِّنَ السَّاعَةِ مُشۡفِقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت سے بھی ڈرنے والے ہیں

غیب میں ڈرنے کا معنی 

الانبیاء :49 میں فرمایا : جو غیب میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ اس آیت میں غیب سے مراد آخرت کا عذاب ہے جو غیب ہے یعنی جو لوگ آخرت کے عذاب سے ڈر کر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں، یا غیب سے مراد ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی غیب ہے اور وہ بن دیکھے اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور تیسرا معنی یہ ہے کہ جس طرح وہ لوگوں کے سامنے اللہ سے ڈرتے ہیں اور بےحیائی اور برائی کے کام نہیں کرتے، اسی طرح جب لوگ ان کے سامنے نہیں ہوتے اور وہ خلوت میں ہوتے ہیں، اس وقت بھی وہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور بےحیائی کے کام اور دوسرے جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، ان کو نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

(الملک :12) بیشک جو لوگ غیب (تنہائی) میں اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 49