اناث کا ذکر پہلے کیوں

اس آیہٗ کریمہکو باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ بات بھی جاننے کو ملتی ہے کہ اللہ نے جہاں نر اور مادہ کی پیدائش کو اپنی چاہت قرار دیا وہاں اسنے اس غلط ترجیحی بات کا بھی رد فرمایا،آیت میں پہلا ذکر اناث کا فرمایا،اور اس کے بعد ذکور کا ،یہ بتانے کے لئے کہ اے لوگو ! جسے تم پیچھے رکھنا چاہتے ہو وہ تمہارے رب کے ہاں پیچھے نہیں تمہارے رب نے اسکا ذکر پہلے فرمایا ہے،رب جسے آگے رکھے تمہارے ہاں بھی وہ آگے رہنا چاہیئے ،رب کی چاہت تمہاری چاہت ہونی چاہیئے،کیا واقعۃ ہمارا جذبہ ایسا ہی ہو جائے گا ؟ہم مسلمان ہیں ہم میں جاہلیت کا ظلم نہیں اسلام کے عدل وانصاف کی خوشبو پھوٹنی چاہیئے