أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ لَهُمۡ اٰلِهَةٌ تَمۡنَعُهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ‌ؕ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ نَـصۡرَ اَنۡفُسِهِمۡ وَلَا هُمۡ مِّنَّا يُصۡحَبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا ان کے پاس کوئی اور معبود ہیں جو ان کو ہمارے عذاب سے چھڑا لیں گے، وہ تو خود اپنی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ ہی ہماری طرف سے ان کی مدد کی جائے گی

لایصحبون کا معنی 

الانبیاء :43 میں فرمایا ہے : ولا ھم منا یصحبون۔ عام طور پر مترجمین نے اس کا معنی صحبت اور رفاقت کیا ہے۔

شاہ رفیع الدین متوفی 1233 ھ نے اس کا ترجمہ کیا ہے : اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت کئے جاتے ہیں۔

شیخ محمود الحسن متوفی 1339 ھ نے لکھا ہے : اور نہ ان کی ہماری طر سے رفاقت ہو۔ اور نہ ہمارے مقابلہ میں کوئی اور ان کا ساتھ دے سکتا ہے۔

ہم نے اس کا ترجمہ کیا ہے : اور نہ ہماری طرف سے ان کی مدد کی جائے گی۔

امام رازی متوفی 606 ھ فرماتے ہیں : المازنی نے کہا ہے جب تم کسی کی حفاظت کرو تو کہا جاتا ہے اصحبت الرجل یعنی صحب کا معنی حفاظت کرنا ہے اور اس آیت میں یصحبون کا معنی صحبت سے نہیں ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ صحبت یہاں پر نصرت اور مدد کے معنی میں ہے۔ مسافر کے لئے کہا جاتا ہے صحبک اللہ و نصرک اللہ، اللہ تمہارا صاحب ہو اور اللہ تمہاری مدد کرے۔ اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ان کو ہماری طرف سے کوئی مدد اور اعانت حاصل نہیں ہوگی۔ خلاصہ یہ ہے کہ کفار اپنے معبودوں کے متعلق یہ کہتے تھے کہ وہ آخرت میں ہماری مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ وہ نہ تو خود اپنی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اللہ کی طرف سے ان کی مدد کی جائے گی۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 147، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 43