آہ! امام اہل سنت بنگلہ دیش بھی آج داغ مفارقت دے گیے!!

محمد راحت خاں قادری

خادم دار العلوم فیضان تاج الشریعہ، بریلی شریف، انڈیا

خلیفہ حضرت علامہ سید وجاہت رسول قادری رضوی عزیزگرامی قدر حضرت مولانا محمد نظام الدین رضوی دامت برکاتہم العالیہ ناظم اعلیٰ ’’الامین باریہ درس نظامی مدرسہ‘‘ چاٹگام، بنگلہ دیش کے ذریعہ یہ دل دہلادینے والی خبر ملی کہ بنگلہ دیش میں “امام اہل سنت” کے نام(لقب) سے مشہور، بزرگ عالم دین، روحانی پیشوا، سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے شیخ، حضرت مفتی قاضی نورالاسلام ہاشمی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔آج ۹؍شوال المکرم ۱۴۴۱ھ /مطابق ۲؍جون ۲۰۲۰ءبروز منگل صبح ۵؍بجے ہم لوگوں کو ہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے کر رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ

آپ کی عمر ۹۰؍سال سے زائد تھی، آپ بنگلہ دیش کے مشہور علمی و مذہبی شہر چاٹگام کے ’’جلال آباد کل گاؤں‘‘ میں رہتے تھے۔رضویات کی کئی کڑیاں آپ سےجڑی ہوئی ہیں آپ کو تلمیذ و خلیفۂ اعلیٰ حضرت ملک العلما حضرت علامہ مفتی ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ کے خلیفہ حضرت علامہ مفتی سید عابد شاہ مجددی علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل ہے جن کو حضور حجۃ الاسلام نے دیوبندی مناظر ’’ابوالوفا شاہجہان پوری‘‘ کو مناظرہ میں شکست کے بعد ’’ابوالنصر‘‘ کا خطاب عطا فرمایا تھا اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی مصطفیٰ رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمہ کے خلیفہ حضرت شیخ محمد بن علوی بن عباس مالکی مکی علیہ الرحمہ سے بھی اجازت و خلافت کا شرف حاصل ہے۔راقم کی ملاقات بنگلہ دیش کے تعلیمی و تبلیغی سفر۱۷؍اگست بروز جمعہ ۲۰۱۸ء؁ کوان کے دولت خانہ پر ہوئی تھی۔ مختلف مذہبی موضوعات پر علمی گفتگو کا موقعہ میسر آیا اور اسی دن آپ کے یہاں ہونے والی ایک مجلس میں شرکت و تقریر کا شرف بھی حاصل ہوا۔

آپ ایک با وقار عالم، ماہر مفتی، دلائل و براہین سے مرصع مصنف، شفیق و مہربان استاذ،رشد وہدایت سے موصوف شیخ طریقت اور مذہب اسلام کے بے مثال رہنما تھے، سادگی آپ کا حسن ذاتی اور کم گوئی زینت گفتار تھی۔ آپ اگرچہ اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن آپ کی دینی و مذہبی خدمات اور ہزاروں کی تعداد میں آپ کے وہ شاگرد و تلامذہ جنہوں نے آپ سے علم دین حاصل کیا اور آج بنگلہ دیش کے مختلف خطوں اور گوشوں میں اس کی ترویج اشاعت میں مشغول ہیں جن کے سبب آپ صبح قیامت تک زندہ تابندہ رہیں گے۔

آپ کا وصال پر ملال عالم اسلام کے لیے عظیم خسارہ ہےخصوصاً مسلمانانِ بنگلہ دیش آج ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت سے محروم ہوگیےخدائے تعالیٰ مسلمانوں کو حضرت کا نعم البدل عطا فرمائے۔حضرت کے صاحبزاگان حضرت مولاناقاضی محمد ابوالبیان ہاشمی، مولانا قاضی محمد ابوالعرفان ہاشمی، مولانا قاضی ابوالاحسان ہاشمی اور دیگر اہل خانہ، عزیز و اقارب مریدین و متوسلین کو میں تعزیت پیش کرتا ہو خدائے تعالیٰ آپ حضرات کو صبر جمیل عطا فرمائے اور حضرت کے درجات کو بلند فرمائے۔

انَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ، وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَاراً خَيْراً مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلاً خَيْراً مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجَاً خَيْراً مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ ۔ آمین یا رب العالمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔

تعزیت کنندگان

مدرسین و اراکین دار العلوم فیضان تاج الشریعہ

۹؍شوال المکرم ۱۴۴۱ھ/۲؍جون ۲۰۲۰ء