اے بےکسوں کے آقا ﷺ اب تیری دہائی ہے

ابھی غزہ پٹّی، فلسطین میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ مسلسل توڑے جا رہے ہیں اور اسرائیل فلسطین کا نام و نشان مٹانے کی تاک میں ہے، مسجد اقصٰی کو منہدم کرنے کی فراق میں ہے اور اسلامی ممالک نیند میں مصروف ہیں. شاید وہ حضرت عیسٰی اور امام مہدی کا انتظار کر رہے کہ جب تک یہ نفوس قدسیہ زمین پر نہ تشریف لائے تب تک ہم کو یہود و نصاریٰ کی ایجنٹی کرنی ہے اور مسلم ممالک کو دھیرے دھیرے تباہ و برباد ہونے دینا ہے اور کروڑوں مسلمانوں کی لاشوں سے کھیلنا ہے اور گذشتہ رات کو یہ دردناک خبر سنی کہ خلیفۂ راشد امیر المؤمنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے مزار کو یہودیوں کے ماتمی بھائی رافضیوں نے توڑ ڈالا اور جسم کو قبر سے نکال کر ایک لاپتہ مقام پر لے گئے. اب بھی عالمِ اسلام خاموش تماشائی بنا ہوا ہے کہ مسلمانوں کے امیر اور اسلام کے سب سے پہلے مجدد کی نعش مبارک کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا ہے اور مسلمان ٹِک ٹاک اور اپنی فلمیں بنانے میں مدہوش ہے اور علماء کرام بھی شاید سو گئے اور عوام کو بھی اپنے ساتھ سلا دیا ہے کہ اب جاگنا نہیں ہے قیامت تک اور یوں ہی ذلیل و خوار ہو کر اپنا مقدر چمکانا ہے. آخر جو مسلمان جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے جرأت و بہادری بخشی ہے وہ کرے تو کیا کرے کہ ان کی حوصلہ افزائی کونسا ملک کرے اور کون انہیں سہیونی طاقتوں کے خلاف تیار کرے. اب تو دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ…

تجھ سے فریاد ہے اے گنبد خضری والے ﷺ

کعبے والوں کو ستاتے ہیں کلیسا والے

ستاتے ہیں بہت اعدائے دیں تیرے غلاموں کو

مدد کا وقت ہے اے سید خیر الوریٰ ﷺ اٹھیے

از – محمد شعیب رضا قادری

مکرانہ