أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلۡ مَتَّـعۡنَا هٰٓؤُلَاۤءِ وَ اٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى طَالَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ ‌ؕ اَفَلَا يَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِى الۡاَرۡضَ نَـنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا ؕ‌ اَفَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا کی زندگی میں بہت نفع پہنچایا حتی کہ ان کی زندگی بہت لمبی ہوگئی کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم ان پر زمین کے کناروں کو کم کرتے چلے آ رہے ہیں، تو کیا یہ اب بھی غالب ہوسکتے ہیں ؟

پہلے زمین کے کنارے کافروں پر کم ہو رہے تھے اور اب مسلمانوں پر الانبیاء : ٤٤ میں فرمایا : کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم ان پر زمین کے کناروں کو کم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ سر زمین عرب کے جن علاقوں پر پہلے کفار قابض تھے، اب ہم کافروں کو پیہم شکست دے کر ان علاقوں پر مسلمانوں کو قابض اور فتح یاب کرتے چلے آ رہے ہیں اور جن علاقوں پر کافروں کی حکومت اور ان کا تسلط تھا، ان کو ہم کم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کیا اب بھی کافروں کو یہ امید ہے کہ وہ مسلمانوں پر غالب آجائیں گے جبکہ سر زمین عرب میں اب اسلام پھیلتا جا رہا ہے۔

تقریبا ً ایک ہزار صدی ہجری تک ایسا ہی تھا جب تک مسلمان فنون حرب میں تری کرتے رہے اور علم و دانش کی تحقیقات میں مصروف رہے اور عیش کوشی اور رقص و سرورد کی محفلیں سجا نے اور طوائف المو کی سے دور رہے، مسلمانوں کو غلبہ رہا لیکن جب وہ ایک دور سے سے اقتدار کی چھینا جھپٹی میں مشغول ہوگئے اور وحدت ملی کو پارہ پارہ کردیا، ان کی دانش نگاہیں ویران اور عشرت وکدے آباد ہوگئے اور روہ اپنی سلطنت کے ٹکڑوں کو دوسرے مسلمان حاکموں سے بچانے کے لئے اسلام دشمنوں سے مدد حاصل کرنے لگے تو پھر وہ دنیا میں مغلوب اور محکوم ہوتے گئے۔ اسپین آپس کی اسی رقیبا نہ چھینا جھپٹی سے مسلمانوں کے ہاتھوں سے جاتا رہا، متحدہ ہندوستان کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا، مشرقی پاکستان بھارت کی شہ پر بنگلہ دیش بن گیا، ماوراء النہر کی مسلم ریاتیں روس میں ضم ہوگئی تھیں اور اب باقی ماندہ پاکستان بھی بےراہ روی، غیر ملکی قرضوں کے اللوں تللوں اور آپس کی لوٹ مار اور تعصب کے طوفان میں ہچکولے کھا رہا ہے۔ چیچنیا، بوسنیا، یوگوسلاویہ اور فلسطین کے مسلمان اپنی آزادی اور بقاء کے لئے غیر مسلم تعصب کے طوفان میں ہچکولے کھا رہا ہے۔ چیچنیا، بوسنیا، یوگوسلاویہ اور فلسطین کے مسلمان اپنی آزادی اور بقاء کے لئے غیر مسلم طاقتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں اور انڈونیشیا اور ملائیشیا بھی اب غیر یقینی حالات سے دوچار ہیں۔ چین اور بھارت میں کروڑوں مسلمان غلامانہ طریقہ سے رہنے پر مجبور ہیں۔ سو اب زمین کے کناروں مسلمانوں کے لئے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس انقلاب کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کی آیات اب جھوٹی ہوگئیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ہم اجتماعی طور پر قرآن کی ہدایت اور اس کے معیار کے مطابق مسلمان نہیں رہے، جب ہم قرآن کے معیار کے مطابق مسلمان تھے تو زمین کے کنارے ہم پر کشادہ اور وسیع ہو رہے تھے اور کفار پر تنگ اور کم ہو رہے تھے اور جب ہم قرآن کے معیار کے مطابق مسلمان نہیں رہے تو دنیا میں حکومت اور اقتدار کا نقشہ بھی بدلنے لگا۔

کافروں پر زمین کے کنارے کم ہونے کی سید مودودی کی تفسیر پر تبصرہ 

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کفار پر زمین کے کناروں کو کم کرنے کی تفسیر میں لکھا ہے :

اچانک کبھی قحط کی شکل میں، کبھی وباء کی شکل میں، کبھی سیلاب کی شکل میں، کبھی زلزلے کی شکل میں، کبیھ سردی یا گرمی کی شکل میں اور کبھی کسی اور شکل میں کوئی بلا ایسی آجاتی ہے جو انسان کے سب کئے دھرے پر پانی پھیر دیی ہے۔ ہزاروں، لاکھوں شکل میں اور کبھی کسی اور شکل میں کوئی بلا ایسی آجاتی ہے جو انسان کے سب کئے دھرے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ ہزاروں، لاکھوں آدمی مرجاتے ہیں، بستیاں تباہ ہوجاتی ہیں، لہلہاتی کھیتیاں غارت ہوجاتی ہیں، پیداوار گھٹ جاتی ہے، تجارتوں میں کساد بازاری آنے لگتی ہے، غرض انسان کے وسائل زندگی میں کبھی کسی طرف سے کمی ہوجاتی ہے اور کبھی کسی طرف سے۔ (تفہیم القرآن ج و ص 161، مطبوعہ لاہور، 1983 ء)

سید ابوالاعلیٰ مودودی کی اس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ قدرتی آفات اور موسمی تغیرات سے دن بہ دن انسانوں کی آبادی کم رہی ہے اور اس طرح زمین کے کنارے انسانوں کے وجود سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ تفسیر دو وجہ سے صحیح نہیں ہے۔ اول وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں مطلقاً انسانوں کے وجود سے زمین کے کناروں کا کم ہنا نہیں فرمایا بلکہ کافروں کے متعلق فرمایا ہے کہ ہم ان پر زمین کے کناروں کو کم کرتے چلے آ رہے ہیں، جبکہ سید مودودی کی تقریر مطلقاً انسانوں کے بارے میں ہے اور ثانی وجہ یہ ہے کہ مشاہدہ سے یہ ثابت ہے کہ دن بہ دن انسانوں کی آبادی فزوں تر ہو رہی ہے اور بڑھتی جا رہی ہے۔ 1947 ء میں موجودہ مغربی پاکستان کی آبادی ساڑھے تین کروڑ تھی اور اب 2001 ء میں ساڑھے بارہ کروڑ ہے۔ بھارت کی آبادی 1947 ء میں چالیس کروڑ سے کم تھی اور اب ایک ارب سے زیادہ ہے۔ اس لئے اس آیت کی یہ تفسیر صحیح نہیں ہے۔

اس لئے اس آیت کی صحیح تفسیر یہی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے زمانہ میں مکہ میں جو کفر و اسلام کے درمیان آویزش تھی اس میں مکہ کے مسلمانوں پر اگرچہ کفار ظلم و ستم کر رہے تھے اور بہ ظاہر غالب تھے لیکن مکہ کے اطراف میں اور مدینہ میں اسلام کی دعوت جڑ پکڑ رہی تھی اور کفار کا حیطہ اقتدار دن بہ دن کم ہو رہا تھا اور بتدریج اسلام کا غلبہ ہو رہا تھا، ان حالات کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم ان پر زمین کے کناروں کو کم کرتے چلے آ رہے ہیں تو کیا یہ اب بھی غالب ہوسکتے ہیں ؟

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 44