🌷حرکت زمین پر صحابہ کرام کی راۓ🌷

📝محمد اسد رضا قادری

ماخوذ:فتاوی رضویہ، ج 27

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ۔ وَ لَىٕنْ زَالَتَاۤ اِن اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖؕ-اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا(۴۱)

ترجمہ:

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ حرکت نہ کریں اور قسم ہے کہ اگر وہ ہٹ جائیں تو اللہ کے سوا انہیں کوئی نہ روک سکے گا۔ بیشک وہ حلم والا، بخشنے والا ہے۔

اجمال یہ ہے کہ افقہ الصحابہ بعد الخلفاء الاربعہ سیدنا عبداللہ ابن مسعود و صاحب سر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنہم نے اس آیت کریمہ سے مطلق حرکت کی نفی مانی یہاں تک کہ اپنی جگہ قائم رہ کر محور پر گھومنے کو بھی زوال بتایا۔

ان حضرات سے زائد عربی زبان ومعانی قرآن سمجھنے والا کون؟؟

اب ذرا ان حضرات کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے فرامین ملاحظہ ہوں👇👇

ارشاد فرمایا: “تمسکوا بعھد ابن مسعود” یعنی ابن مسعود کے فرمان کو مضبوطی سے تھامو۔

بحوالہ: جامع الترمذی، باب المناقب، مناقب عبداللہ بن مسعود، ج٢، ص٢٢١ امین کمپنی دہلی

ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا:

“میں نے اپنی امت کے لئے پسند فرمایا جو اس کے لئے عبداللہ ابن مسعود پسند کریں اور میں نے اپنی امت کے لیے ناپسند رکھا جو اس کے لئے ابن مسعود ناپسند رکھیں”

بحوالہ: مجمع الزوائد، کتاب لمناقب، مناقب عبداللہ بن مسعود، ج٩، ص٢٩٠ دارالکتاب العربی بیروت

مزید ارشاد فرمایا

“جو بات تم سے ابن مسعود بیان کرے اسکی تصدیق کرو”

بحوالہ: جامع الترمذی، ابواب المناقب، ج٢، ص٢٢١ امین کمپنی دہلی

ایک جگہ ارشاد فرمایا

“جو بات تم سے حذیفہ بیان کرے اسکی تصدیق کرو”

بحوالہ: جامع الترمذی، ابواب المناقب، ج٢، ص٢٢٢ امین کمپنی دہلی

تو قارئین کرام!

پیش کردہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ چونکہ ان صحابہ کرام کی تصدیق کا حکم خود حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ہے تو یہ تفسیر ان حضرات کی نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے مانو اور تصدیق کرو۔

اب ہم وہ روایت پیش کرتے ہیں جن میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے زمین کی حرکت کے حوالے سے کلام فرمایا۔

سعید بن منصور و عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے حضرت شفیق ابن سلمہ سے کہ زمانہ رسالت پائے ہوئے تھے روایت کی اور یہ حدیث ابن جریر بسند صحیح برجال صحیحین بخاری و مسلم ہے

” ہمیں ابن بشار نے حدیث بیان کی کہ ہم کو عبدالرحمن نے حدیث بیان کی کہ ہم کو اعمش نے بحوالا ابو وائل حدیث بیان کی، ابووائل نے کہا کہ ایک صاحب حضرت سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے حضور حاضر ہوئے۔

فرمایا کہاں سے آئے؟ عرض کی: شام سےـ

فرمایا: وہاں کس سے ملے؟؟ عرض کی کعب سے۔

فرمایا کعب نے تم سے کیا بات کی؟

عرض کی: یہ کہا کہ آسمان ایک فرشتے کے شانے پر گھومتے ہیں فرمایا تم نے اس میں کعب کی تصدیق کی یا تکذیب ؟

عرض کی کچھ نہیں (یعنی جس طرح حکم ہے کہ جب تک اپنی کتاب کریم کا حکم نہ معلوم ہو اہل کتاب کی باتوں کو نہ سچ جانو نہ جھوٹ)

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کاش تم اپنا اونٹ اور اس کا کجاوہ سب اپنے اس سفر سے چھٹکارے کو دے دےدیتے۔ کعب نے جھوٹ کہا۔

اللہ تعالی فرماتا ہے بیشک اللہ آسمانوں اور زمینوں کو روکے ہوئے ہیں کہ سرکنے نہ پائیں اور اگر وہ ہٹیں تو اللہ کے سوا انہیں کون تھامے۔

ابن جریر کے غیر نے یہ اضافہ کیا کہ گھومنا ان کے سِرک جانے کو بہت ہے۔

بحوالہ: الدر المنثور، تحت آیة ٤١/٣٥، ج٧، ص٣٢، دار احیاء التراث العربی بیروت

اسی طرح عبد بن حمید نے قتادہ شاگردِ حضرت انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی

” کعب کہا کہتے کہ آسمان ایک کیلی پر دورہ کرتا ہے جیسے چکی کی کیلیی۔ اس پر حذیفہ الیمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: کعب نے جھوٹ کہا بے شک اللہ تعالی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہیں کہ جنبش نہ کریں”

بحوالہ: الدر المنثور فی التفسیر الماثور، تحت آیة ٤١/٣٥، ج٧، ص٣٢، دار احیاء التراث العربی بیروت

دیکھو ان اجلہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے مطلق حرکت کو زوال مانا اور اس پر انکار فرمایا اور قائل کی تکذیب کی اور اسے بقایاۓ خیالات یہودیت سے بتایا۔ کیا وہ اتنا نہ سمجھ سکتے تھے کہ ہم کعب کی ناحق تکذیب کیوں فرمائیں آیت میں تو زوال کی نفی فرمائی ہے اور ان کا یہ پھرنا چلنا اپنے اماکن میں ہے جہاں تک احسن الخالقین تعالی نے ان کو حرکت کا امکان دیا ہے وہاں تک انکا حرکت کرنا ان کا زوال نہ ہو گا مگر ان کے ذہن مبارک اس معنی باطل کی طرف نہ گیا نہ جاسکتا تھا بلکہ اس کے ابطال ہی کی طرف گیا اور جانا ضروری تھا کہ اللہ تعالی نے مطلقا زوال کی نفی فرمائی ہے نہ کہ خاص زوال عن المدار کی۔تو انہوں نے روا نہ رکھا کہ کلامِ الہیﷻ میں اپنی طرف سے پیوند لگائیں۔ لا جرم اس پر رد فرمایا اور اس قدر شدید و اشد فرمایا وللہ الحمد۔

تنبیہ: کعب احبار تابعین میں سے ہیں۔ عہد فاروقی میں مسلمان ہوۓ۔ کتب سابقہ کے عالم تھے۔

صحافی