فرحان رفیق قادری عفی عنہ….

ایک پوسٹ پر طویل کمنٹ کیا سوچا کہ شییر بھی کرو دوں…..

زمین ساکن ہے…….

قرآن و احادیث میں یہ بات صاف موجود ہے کہ زمین ساکن ہے، سوج چاند ستارے اپنے اپنے محور میں چل رہے ہیں… یہ مضمون متعدد آیات سے صریح طور پر ثابت ہے…

اِنَّ اللّٰہَ یُمۡسِکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ۬ ۚ

بیشک اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں

وَ جَعَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِہِمۡ ۪

اور زمین میں ہم نے لنگر ڈالے کہ انھیں لے کر نہ کانپے

وَ الشَّمۡسُ تَجۡرِیۡ لِمُسۡتَقَرٍّ لَّہَا ؕ ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿ؕ۳۸﴾ اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے یہ حکم ہے زبردست علم والے کا

وَ الۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِیۡمِ ﴿۳۹﴾

اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کیں (ف۵۱) یہاں تک کہ پھر ہوگیا جیسے کھجور کی پرانی ڈال (ٹہنی)

لَا الشَّمۡسُ یَنۡۢبَغِیۡ لَہَاۤ اَنۡ تُدۡرِکَ الۡقَمَرَ وَ لَا الَّیۡلُ سَابِقُ النَّہَارِ ؕ وَ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ ﴿۴۰﴾

سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑے (ف۵۳) اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے (ف۵٤) اور ہر ایک ، ایک گھیرے میں پیر رہا ہے…… اس کے علاوہ بھی آیات موجود ہیں…….حرکت زمین پر نہ پہلے کےسائنس دان متفق تھے اور نہ ہی آج کے متفق ہیں… پھر مسلمانوں کے تعلیمی نصاب میں یہ نظریہ ٹھونس دینے کا کیا مطلب ہے؟ ؟؟؟ کہی یہ قرآن کو غلط ثابت کرنے کی کوشش تو نہیں….. جیسا کہ مغربی ممالک سے پڑھ کر آنے والے افراد قرآن پر ایسے ہی اعتراض کرتے ہیں…….. پچھلی صدی کے بہت بڑے عالم حضرت احمد رضا نے نیوٹن و ائن سٹائن نے قوانین کا رد بلیغ بھی کیا ہے اور حرکت زمین پر انہیں کے بنائے ہوئے قوانین سے سکون زمین کو ثابت کیا ہے……مغرب کی اندھی تقلید ہمیں ایمان سے ہاتھ دھلوا نہ دے!!