أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِىۡ فَطَرَهُنَّ ‌ۖ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

(ابراہیم نے) کہا بلکہ تمہارا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ابراہیم نے) کہا بلکہ تمہارا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں اور اللہ کی قسم ! تمہارے پیٹھ پھیر کر جانے کے بعد میں تمہارے بتوں کے ساتھ ایک خفیہ تدبیر کروں گا سو ابراہیم نے ان کے بڑے بت کے سوا سب بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر یدئے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں انہوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ جس نے بھی یہ کارروائی کی ہے، وہ بیشک ضرور ظالموں میں سے ہے انہوں نے کہا ہم نے ایک جوان کو ان (بتوں) کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا جس کو ابراہیم کہا جاتا ہے (الانبیاء :56-60)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کے بتوں کو توڑنا 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ ان کی قوم یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ ان کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں تو انہوں نے توحید کا اعلان کیا تاکہ قوم کو یقین ہوجائے کہ وہ اظہار حق میں سنجیدہ ہیں۔ اس لئے انہوں نے اپنی زبان اور عمل سے اپنے عقیدہ توحید کا اظہار کیا اور کہا بلکہ تمہارا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ خالق وہ ہے جس نے ان چیزوں کو بندوں کے نفع کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں بندوں کو ضرور اور عذاب سے بچانے اور نفع اور ثواب پہنچانے پر قادر ہے۔ سو اسی کی عبادت کرنی چاہیے اس کے علاوہ انہوں نے ایک عملی تدبیر اختیار کی۔ اس کی تفصیل امام ابن جریرنی اس طرح بیان کی ہے :

حضرت ابراہیم سے ان کی (عرفی) والد نے کہا اے ابراہیم ! ہماری ایک عید ہے اگر تم ہمارے ساتھ اس دن جائو تو تم کو ہمارا دین اچھا لگے گا۔ جب عید کا دن آیا تو وہ سب روانہ ہوئے جب کچھ راستہ طے ہوگیا تو حضرت ابراہیم علیہالسلام گھر گئے اور فرمایا میں بیمار ہوں اور میرے پیر میں تکلیف ہے۔ ان لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چھوڑ دیا۔ جب وہ چلے گئے تو انہوں نے زور سے کہا اور اللہ کی قسم ! تمہارے پیٹھ پھیر کر جانے کے بعد میں تمہارے بتوں کے ساتھ ایک خفیہ تدبیر کروں گا۔ ان کی قوم کے کچھ لوگوں نے اس بات کو سن لیا تھا پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے بت کدہ کی طرف گئے، اس بت کدہ میں ایک بہت ڑا کمرہ تھا جس کے سامنے ایک بہت بڑا بت نصب تھا اور اس کے ساتھ بہت چھوٹے چھوٹے بت رکھے ہوئے تھے اور ان بتوں کے سامنے کھانا رکھا ہوا تھا۔ ان کا پروگرام تھا کہ وہ اپنی عید یا میلے سے واپس آ کر اس طعام کو کھائیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کے سامنے کھانا رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا :

(فراع الی الھتھم فقال الاتاکلون مالکم لاتنطفون فراغ علیھم ضرباً بالیمین (الصفت :91-93) آپ نے ان بتوں کے پاس جا کر فرمایا تم کھاتے کیوں نہیں ؟ تم کو کیا ہوا تم بات کیوں نہیں کرتے ؟ پھر ان کی شرف مڑ کر ان کو دائیں ہاتھ سے مارنا شروع کردیا۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کلہاڑے سے تمام بتوں کو توڑنا شروع کردیا اور تمام بت ٹوٹ کر انکے قدموں میں گرگئے پھر انہوں نے کلہاڑا اٹھا کر سب سے بڑے بت کی گردن پر رکھ دیا پھر جب ان کی قوم میلے سے واپس آئی تو کھانا کھانے کے لئے اپنے بت کدہ میں گئی۔ وہاں جا کر انہوں نے دیکھا کہ بڑے بت کے سوا ان کے سارے خدا ٹوٹے پھوٹے پڑے تھے، اس وقت انہوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ جس نے بھی یہ کارروائی کی ہے، وہ بیشک ضرور ظالموں میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک نوجوان کو ان (بتوں) کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، اس کو ابراہیم کہا جاتا ہے۔ (جامع البیان جز 17 ص 51، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 56