أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ عَلٰٓى اَعۡيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا اس کو لوگوں کے سامنے لائو تاکہ سب دیکھ لیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا اس کو لوگوں کے سامنے لائو تاکہ سب دیکھ لیں انہوں نے کہا اے ابراہیم ! کیا تم نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ کارروائی کی ہے ؟ انہوں نے کہا بلکہ اسی نے یہ کام کیا ہے (یعنی ابراہیم نے) ان میں کا بڑا یہ ہی ظالم ہو پھر انہوں نے اپنے سر جھکا لیے (اور شرمندگی سے) کہا تم کو معلوم ہے یہ بول نہیں سکتے (ابراہیم نے) کہا کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو یجو تم کو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں تف ہے تم پر اور ان پر جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، سو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے (الانبیاء :61-67)

بتوں کو توڑنے کی بڑے بت کی طرف نسبت کرنے کے جوابات 

جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے دیکھے اور ان کو یہ معلوم ہوا کہ بتوں کو توڑنے والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں تو انہوں نے آپس میں کہا انکو لوگوں کے سامنے لائو۔ اس کے بعد کہا لعلھم یشھدون، اس کے دو محمل ہیں ایک کہ شاید وہ اس کے خلاف شہادت دیں۔ دوسرا یہ کہ تاکہ وہ دیکھ لیں کہ ان کے بتوں کو توڑنے والے کو کیا سزا دی جاتی ہے تاکہ ان کو عبرت حاصل ہو اور آئندہ کوئی شخص اس کی جرأت نہ کرے اور ہوسکتا ہے یہ دونوں معنی مراد ہوں۔

ان کی قوم نے ان سے سوال کیا کہ اے ابراہیم ! کیا آپ نے ان بتوں کو توڑا ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ان کا بڑا یہ ہے، سو تم اس سے پوچھ لو۔ بہ ظاہر یہ جھوٹ ہے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کو خود توڑا تھا اور نسبت اس بڑے بت کی طرف کردی اور یہ جھوٹ ہے، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

واذکر فی الکتاب ابراہیم انہ کان صدیقاً نبیاً (مریم : ٤١) اور آپ اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کیجیے بیشک وہ بہت سچے نبی تھے۔

(١) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ اس کے فعل کی نسبت حقیقتاً ان کی طرف کی جائے اور انہوں نے اس بڑے بت کے عجز کو ثابت کرنے اور اس کی توہین کرنے کے لئے اس کی طرف نسبت کردی۔ اس کی ماثل یہ ہے کہ فرض کیجیے ایک شخص بہت مشہور خوش نویس ہو اور ایک دوسرا شخص ہو جس کے متعلق سب جانتے ہوں کہ یہ اچھا نہیں لکھتا۔ وہ خوش نویس کوئی بہت عمدہ اور نفیس عبارت لکھے اور جب لوگ پوچھیں کہ یہ اتنی عمدہ عبارت کس نے لکھی ہے تو وہ اس دور سے شخص کی طرف اشارہ کر دے کہ اس نے لکھی ہے، یعنی اس جیسا بدخط ایسی عبارت کب سکتا ہے۔ سو وہ اس کی مذمت کرنے کے لئے اس کی طرف نسبت کے۔ سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اس کے عجز اور بےبسی کو ظاہر کرنے کے لئے اس کی طرف اشارہ فرمایا اور تعریضاً اس کی طرف نست کی۔ تعریض کا معنی یہ ہے کہ بہ ظاہر فعل کی نسبت ایک شخص کی طرف کی جائے اور حقیقت میں مراد دوسرا شخص ہو۔

(٢) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بڑے بت کی طرف توڑنے کی نسبت بہ طور سبب کی ہے کیونکہ آپ کے غیظ و غضب اور بت توڑنے کا سبب وہ بڑا بت تھا کیونکہ اس کی بہت زیادہ تعظیم اور پرستش کی جاتی تھی تو اس کی پرستش کو باطل کرنے کے لئے آپ نے ان چھوٹے بتوں کو توڑنے کی نسبت بڑے بت کی طرف کردی۔

(٣) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے مذہب کے اعتبار سے فرمایا یہ کام اسی نے کیا ہے، تم اس بڑے بت سے اس فعل کے صادر ہونے کو کیوں عجیب سمجھ رہے ہو اور اس کا کیوں انکار کر رہیہو، جو الوہیت کا مدعی ہو اور جس کی پرستش کی جاتی ہو، کیا وہ اتنے سے کام پر بھی قادر نہیں ہے، کیا وہ ان چھوٹے بتوں کو نہیں توڑ سکتا ؟

(٤) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا فاعل ذکر نہیں کیا اور اصل عبارت یوں ہے بل فعلہ من فعلہ، بلکہ یہ کام اسی نے کیا جس نے کیا۔ ان میں کا بڑا یہ ہے سو تم اس سے پوچھ لو۔

(٥) جب انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پوچھا : اے ابراہیم ! کیا تم نے یہ کام کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : بل فعلہ اور اس پر وقف کیا، کیونکہ اس پر وقف جائز کی علامت ” ق “ ہے بلکہ اسی نے کیا ہے (یعنی جس کے متعلق تمہارا گمان ہے، اسی نے توڑا ہے) اور ان کا بڑا یہ ہے، اس سے تصدیق کرلو۔

(٦) جب انہوں نے سوال کیا اے ابراہیم ! کیا تم نے یہ کارروائی کی ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا بل فعلہ کبیرھم بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے۔

لوگ یہ سمجھے کہ آپ بتوں میں سے بڑے بت کو کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ فرما رہے تھے جو ان میں سے بڑا ہے اس نے کیا ہے اور ان کی قوم میں پڑے خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے کیونکہ نبی اپنی امت میں سب سے بڑا ہوتا ہے، اور اس معنی پر قرینہ یہ ہے کہ آپ نے کبیرھم فرمایا کبیرھا نہیں فرمایا اگر بتوں کا بڑا مراد ہوتا تو کبیرھا فرماتے کیونکہ بت غیر ذی العقول ہیں اور چونکہ آپ کی مراد قوم کا بڑا تھی اس لئے کبیرھم فرمایا اور ھم ضمیر ذوی العقول کے لئے لائی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ ضمیر آپ ہی کی طرف لوٹ رہی ہے۔

جھوٹ سے بچنے کے لئے کلام میں تعریض کے استعمال کی تحقیق 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر (رض) نے فرمایا مسلمان کو جھوٹ سے بچنے کے لئے معاریض کافی ہیں۔

حضرت عمران بن حصین (رض) نے فرمایا مسلمان کو جھوٹ سے بچنے کے لئے جھوٹ میں بڑی گنجائش ہے۔ (الادب المفرد رقم الحدیث :908-909 مطبوعہ دارالمعرفتہ بیرت، 1416 ھ)

معاریض کا معنی ہے، تعریض کے ساتھ کلام کرنا۔ کلام میں صراحت کے ساتھ ایک شخص کی طرف نسبت ہو اور مراد دوسرا شخص ہو یا ایک لفظ کے دو معنی ہوں ایک قریب اور ایک بعید، متکلم قریب کے معنی کا ارادہ کرے اور مخاطب کے ذہن میں بعید معنی کا وہم ڈالے۔ جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ کے متعلق فرمایا یہ میری بہن ہے خود ایمانی بہن کا ارادہ کیا اور سننے والے نسبی بہن سمجھے، یا جیسے آپ نے فرمایا میں بیمار ہوں۔ آپ نے روحانی بیماری کا ارادہ کیا اور سننے والے جسمانی بیماری سمجھے۔ اس کو صفت ایہام کہتے ہیں اور تعریض کی مثال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بت توڑنے کی صراحت کے ساتھ بڑے بت کی طرف نسبت کی اور ارادہ اپنی ذات کا کیا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف تین جھوٹ، بولے۔ الحدیث (صحیح مسلم رقم الحدیث :2371، صحیح البخاری رقم الحدیث :3357, 3358 سنن الترمذی رقم الحدیث :3166)

امام رازی نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے :

اس حدیث کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جھوٹا قرار دینے سے بہتر یہ ہے کہ ان راویوں کو جھوٹا کہا جائے جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے، کیونکہ اس پر دلیل قطعی یہ ہے کہ اگر کسی مصلحت کی وجہ سے انبیاء (علیہم السلام) کا جھوٹ بولنا جائز ہو تو یہ احتمال ان کی ہر حدیث میں جاری ہوگا اور وہ اللہ کی طرف سے جو بھی خبر دیں گے، اس میں یہ احتمال ہوگا کہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے کسی مصلحت سے جھوٹ بولا ہو، اور اس سے شریعت پر اعتماد ختم ہوجائے گا اور ہر بات پر جھوٹ کی تہمت ہوگی، اور اگر بالفرض یہ حدیث صحیح ہو تو یہ معاریض پر محمول ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے معاریض میں جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 156، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

امام رازی کو ابتداً ہی یہ کہنا چاہیے تھا کہ اس حدیث میں جھوٹ سے مراد ظاہری جھوٹ ہے اور حقیقت میں معاریض مراد ہیں۔ جیسا کہ ہم نے تفصیل سے بیان کیا ہے تاکہ عوام المسلمین صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی اور دیگر کتب صحاح کی حدیث کے متعلق شکوک اور شبہات کا شکار نہ ہوتے، کیونکہ میں نے خود دیکھا کہ ایک عالم دین نے اس حدیث کا انکار کردیا اور دلیل میں امام رازی کا مذکور الصدر حوالہ پیش کیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ امام رازی نے معاریض کی حدیث کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد قرار دیا ہے حالانکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ حدیث نہیں ہے، اثر ہے اور قول صحابی ہے۔

حاحفظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں :

ان فی معاریض الکلام مندوحۃ عن الکذب اس اثر کو امام بخاری نے الادب المفرد میں اپنی سند کے ساتھ حضرت عمر اور حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت کیا ہے (جیسا کہ ہم نے باحوالہ ذکر کیا ہے) اور امام طبری نے الہذیب میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ امام ابن عدی نے اس کو ایک اور سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین سے مرفوعاً روایت کیا ہے یعنی یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج و ص 576، طبع جدید) اسی طرح امام بیہقی نے بھی مرفوعاً روایت کیا ہے (سنن کبری ج ١٠ ص 199) جوہری نے کہا تعریض اس کلام کو کہتے ہیں جو تصریح کے خلاف ہو اور کلام میں معاریض کا معنی یہ ہے ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ تو ریہ کیا جائے۔ (الصحاح ج ٣ ص 1087، دارالعلم بیروت، 1376 ھ) اور الراغب نے کہا ہے کہ تعریض اس کلام کو کہتے ہیں جس کے صدق اور کذب کے دو محمل ہوں یا ظاہر اور باطن کے دو محمل ہوں۔ قرآن مجید میں ہے : ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النسآء۔ (البقرہ :235) یعنی اگر تم عدت میں بیٹھی ہوئی عورت کو تعریض کے ساتھ نکاح کا پیغام دو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً کہو تم بہت خوبصورت ہو یا تم میں تو بہت مرد رغبت کرتے ہوں گے۔ (المفردات ج ٢ ص 430، مکہ مکرمہ، 1418 ھ) لیکن اولیٰ یہ ہے کہ ایک کلام کے دو محمل ہوں۔ ایک کو مطلق کہا جائے اور دوسرا اس کو لازم ہو اور وہی مراد ہو، اور تعریض اور کنایہ میں فرق کا بہت سوال کیا جاتا ہے۔ (فتح الباری ج ١٢ ص 239، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1420 ھ)

کنایہ اور تعریض کا فرق 

کنایہ اور تعریض میں فرق یہ ہے کہ کنایہ کی تعریف یہ ہے کہ دل میں ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ تشبیہ دی جائے۔ ذکر مشبہ کا ہو، مراد بھی مشبہ ہو لیکن مشبہ بہ کے لوازم اور مناسبات کے ذکر کی وجہ سے ذہن مشبہ بہ کی طرف منتقل ہو۔ جیسا کہ اس مصرع میں ہے :

انشبت المنیۃ اظفارھا۔ موت نے اپنے پنجے گاڑ دیئے۔

موت کو درندہ کے ساتھ تشبیہ دی گی ہے۔ موت مشبہ اور درندہ مشبہ بہ ہے۔ ناخن درندہ کو لازم ہیں اور گاڑنا ان کے مناسبات میں سے ہے، ذکر موت کا ہے اور مراد بھی موت ہے لیکن ناخنوں اور گاڑنے کی وجہ سے ذہن درندہ کی طرف متوجہ ہونا ہے یہ استعارہ بالکنا یہ ہے، اور ناخنوں کا ذکر استعارہ تخبیلیہ ہے اور گاڑنے کا ذکر استعارہ ترشیحیہ ہے۔

اور تعریض یہ ہے کہ کلام میں متکلم نے جس چیز کی طرف صراحتاً نسبت کی ہے، وہ اس کا ارادہ نہ کرے بلکہ جس کی طرف اس نے اشارۃ نسبت کی ہے اس کا ارادہ کرے۔ جیسا کہ جب عورت عدت میں بیٹھی ہو تو اس کو صراحتاً نکاح کا پیغام دینا منع ہے لیکن تعریضاً نکاح کا پیغام دینا جائز ہے۔ مثلاً اس سے کہے، تم بہت حسین ہو یا کہے تم جیسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے تو بہت لوگ رغبت کرتے ہیں۔ ابصراحتاً تو یہ کہا ہے کہ لوگ اس سے نکاح کی رغبت کرتے ہیں اور اس میں تعریضاً یہ کہا ہے کہ وہ خود اس سے نکاح میں رغبت کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔

ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النسآء (البقرہ :235) اور اگر تم نے (عدت والی) عورت کو بغیر صراحت کے نکاح کا پیغام دیا تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

قرآن مجید اور احادیث میں تعریض کا استعمال 

قرآن مجید میں تعریض کی مثال یہ ہے۔ لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزمر :65) اور اگر آپ نے (بالفرض) شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے۔ اس آیت میں صراحت سے آپ کی طرف شرک کرنے کی نسبت ہے لیکن مراد آپ کی امت ہے۔ اور حدیث میں اس کی مثال یہ ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

من عرض عرضنالہ (سنن کبریٰ : ج 8 ص 43) جس نے کسی پر تعریضاً تہمت لگائی تو ہم بھی اس کو تعریضاً حد لگائیں گے۔ یعنی ہم اس پر حدی جاری نہیں کریں گے بلکہ اس پر تعزیر جاری کریں گے۔ اس سلسلہ میں دیگر احادیث یہ ہیں۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کسی غزوہ میں جاتے تو اس کا توریہ کسی اور غزوہ سے کرتے (یعنی جہاں آپ کا قصد ہوتا، اس کے بجائے کسی اور جگہ کا کنایتہ ذکر کرتے) حتیٰ کہ غزوہ تبوک آگیا۔ (الحدیث) (صحیح البخاری رقم الحدیث :4418، صحیح مسلم رقم الحدیث :2769، سنن ابودائود رقم الحدیث :2402، مسند احمد رقم الحدیث :5882، عالم الکتب بیروت)

اس حدیث میں تعریض کے ساتھ کلام کرنے کی تصریح ہے :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سواری کو طلب کیا۔ آپ نے فرمایا میں تم کو اونٹنی کے بچہ پر سوار کروں گا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں اونٹنی کے بچہ کا کیا کروں گا ؟ آپ نے فرمایا : تمام اونٹ اونٹینوں کے بچے ہی ہوتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا : ہر اونٹ، اونٹ کا بیٹا ہی ہوتا ہے۔

اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اس شخص نے سمجھا کہ آپ اونٹ کا بچہ فرما رہے ہیں اور آپ کی مراد اونٹ کا بیٹا تھی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :1991 ء سمند احمد ج ٣ ص 267، سنن ابودائود رقم الحدیث :4998، مسند ابویعلی رقم الحدیث :3776)

حسن بیان کترے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک بوڑھی عورت آئی اور اسنے کہا یا رسول اللہ ! آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے جنت میں داخل کردے۔ آپ نے فرمایا : ایف لاں کی ماں ! بیشک جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہیں جائے گی، وہ عورت واپس جا کر رونے لگی، آپ نے فرمایا : کوئی عورت بڑھاپے کی حالت میں جنت میں نہیں جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

انا انشانھن انشآء فجعلنھن ابکارا غرباً اتراباً (الواقعہ :35-37) ہم نے جنتیوں کی بیویں کو بنایا ہے ہم نے ان کو کنواریاں بنایا ہے محبت کرنے والیاں اور ہم عمر (شمائل ترمذی رقم الحدیث 241 الوفاء رقم الحدیث :777، اتحاف السادۃ المتقین ج ٧ ص 499، شرح السنتہ رقم الحدیث :3606)

اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اس بڑھیا نے سمجھا کہ آپ اس کے متعلق فرما رہے ہیں حالانکہ آپ کی مراد یہ تھی کہ کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی جس کا نام زاہر بن حرام تھا، وہ دیہات میں رہتا تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے گائوں سے ہدیے اور تحفے لاتا تھا اور جب وہ جانے لگتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس کو کچھ سامان دیتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے زاہر ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا تھا اور وہ بدشکل تھا۔ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس اس وقت گئے جب وہ سودا بیچ رہا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھے سے آ کر اس سے اس طرح بغل گیر ہوئے کہ وہ دیکھ نہیں سکا۔ اس نے کہا کون ہے ؟ مجھے چھوڑ دو ، پھر اس نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے سے آ کر اس سے اس طرح بغل گیر ہوئے کہ ہو دیکھ نہیں سکا۔ اس نے کہا کون ہے ؟ مجھے چھوڑ دو ، پھر اس نے مڑ کر دیکھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچان لیا پھر اس نے اپنی پیٹھ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ سے چپکائے رکھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : یہ عبد (غلام) کون خریدے گا ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! تب مجھے آپ کھوٹا پائیں گے۔ آپ نے فرمایا : لیکن تم اللہ کے نزدیک کھوٹے نہیں ہ۔ (شمائل ترمذی رقم الحدیث :240، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث :19688، مسند احمد ج ٣ ص 161، مسند ابویعلی رقم الحدیث :3456 صحیح ابن حیان رقم الحدیث :2276، مسند البزار رقم الحدیث :2735، سنن بیہقی ج 10 ص 248، شرح السنتہ رقم الحدیث :3604)

اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ بہ ظاہر عبد سے مراد غلام تھی لیکن وہ آزاد شخص تھا اور آپ کی اس سے مراد تھی اللہ کا بندہ۔

الزبیر بن بکار نے کتاب الفاکہہ میں زید بن اسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ ایک عورت جس کا نام ام ایمن تھا، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہا میرا خاوند آپ کو بلا رہا ہے۔ آپ نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ کیا وہی جس کی آنکھوں میں سفیدی ہے ؟ اس نے کہا، یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم اسکی آنکھوں میں سفیدی نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اس کی آنکھوں میں سفیدی ہے۔ اس نے کہا نہیں، اللہ کی قسم۔ آپنیف رمایا : ہر شصخ کی آنکھوں میں سفیدی ہوئی ہے۔ (سبل الھدیٰ والرشادج ٧ ص 114، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1414 ھ، زاد المسیر ج ٥ ص 362)

اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اس عورت نے آنکھوں میں سفیدی سے یہ سمجھا کہ اس کے شوہر کی آنکھوں میں کوئی بیماری ہے جبکہ آپ کی اس سے مراد وہ سفیدی ہے جو ہر شخص کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔

ان احادیث سے امام غزالی متوفی 505 ھ اور علامہ شامی متوفی 1252 ھ نے بھی کلام میں تعریض کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص 126، دارالکتب العلمیہ بیروت 1419 ھ اور علامہ شامی متوفی 1252 ھ نے بھی کلام میں تعریض کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص 126، دارالکتب العلمیہ بیروت، 1419 ھ ردا المختارج ٩ ص 526، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1419 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 61