أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا حَرِّقُوۡهُ وَانْصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو اللہ تعالیٰ ہم نے فرمایا : اے آگ ! تو ابراہیم پر ٹھنڈک اور سلامتی ہوجا انہوں نے ابراہیم کے ساتھ ایک چال چلی سو ہم نے ان کو ناکام کردیا اور ہم ابراہیم کو اور لوط کو نجات دے کر اس سر زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت فرمائی تھی (الانبیاء :68-71)

حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالنے والے کا مصداق 

جب وہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دلائل سے لاجواب ہوگئے تو انہوں نے کہا، اس کو آگ میں جلا دو ۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

قرآن مجید میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضرت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا حکم کس نے دیا۔ مشہور یہ ہے کہ یہ حکم دینے والا نمروذ بن کنعان بن سنجاریب بن مروذ بن کوش بن حام بن نوح تھا۔ حضرت ابن عمر (رض) نے یہ کہا یہ شخص اعراب فارس کے قبیلہ کرد سے تھا، وہب بن منبہ نے شعیب الجبائی سے نقل کیا ہے اس کا نام ہیرین تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسادیا سو وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 157، جامع البیان رقم الحدیث :18618)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کی تفصیل 

امام عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :

اہل تفسیر نے ذکر کیا ہے کہ نمروز اور اس کے کارندوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک گھر میں قید کردیا پھر ایک بلند پہاڑ کے دامن میں ان کے لئے ایک قلعہ بنایا، جس کی دیواریں 60 ذراع (نوے فٹ) اونچی تھیں اور بادشاہ نے لوگوں میں اعلان کردیا کہ ابراہیم کو جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کرو اور اس کام کو کرنے میں کوئی بچہ یا بوڑھا کوتاہی نہ کرے، جو اس کام میں شریک نہیں ہوگا، اس کو بھی آگ میں جلا دیا جائے گا۔ تمام لکڑیاں اس دیوار کے برابر ہوگئیں، وہ چالیس دن تک اس مہم میں لگے رہے۔ حتیٰ کہ ان میں سے ایک عورت نذر مانتی تھی کہ اگر میری فلاں مراد پوری ہوگئی تو میں ابراہیم کی آگ کے لئے لکڑیاں چن کر لائوں گی پھر جب اس مکان میں تمام لکڑیاں جمع ہوگئیں تو انہوں نے اس مکان سے نکلنے کے راستے بند کردیئے اور اس میں آگ لگا دی۔ اس میں شعلے بھڑکنے لگے، اس کی تپش اس قدر زیادہ تھی کہ اس کے اوپر سے فضا میں بھی کوئی پرندہ گزرتا تو جل جاتا تھا پھر انہوں نے اس قلعہ کے لئے ایک بہت بلند جگہ منتخب کی اور اس پر منجنیق نصب کی اور اس منجنیق میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو رکھ دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور عرض کیا : اے اللہ ! تو آسمان پر واحد ہے اور میں زمین پر واحد ہوں اور اس زمین پر میرے سوا اور کوئی تیری عبادت کرنے والا نہیں ہے، اللہ مجھے کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے، پھر آسمانوں، زمینوں، پہاڑوں اور فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب ! ابراہیم (علیہ السلام) کو تیرے نام کی سربلندی کی وجہ سے جلایا جا رہا ہے تو ہمیں اس کی مدد کرنے کی اجازت دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مجھے اس کا خوب علم ہے اگر وہ تم کو مدد کے لئے پکارے تو تم اس کی مدد کرو، پھر ان کافروں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ اس وقت آپ کی عمر سولہ سال تھی اور ایک قول یہ ہے کہ آپ کی عمر اس وقت چھبیس سال تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا حسبی اللہ و نعم الوکیل، حضرت جبریل، حضرت ابراہیم کے پاس آئے اور کہا اے ابراہیم ! آپ کی کوئی حاجت ہے ؟ آپ نے فرمایا : مجھے تم سے کوئی کام نہیں ہے، پھر اس نے کہا آپ اپنے رب سے سوال کیجیے۔ آپ نے فرمایا اس کو جو میرے حال کا علم ہے، وہی کافی ہے۔ (یعنی الگ سے دعا کرنے کی ضرورت نہیں ہے) (زاد المسیر ج ٥ ص 366-367، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، 1407 ھ)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہ کی ؟

امام بغوی متوفی 516 ھ امام ابن جوزی متوفی 597 ھ امام رازی متوفی 606 ھ علامہ قرطبی متوفی 668 ھ قاضی بیضاوی متوفی 658 ھ علمہ آلوسی متوفی 1270 ھ اور مفتی محمد شفیع متوفی 1396 ھ سب نے اس حدیث کا مفصل ذکر کیا ہے جس میں مذکور ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جب جبریل (علیہ السلام) نے دعا کے لئے کہا تو انہوں نے کہا اللہ کو جو میرے حال کا علم ہے وہی کافی ہے۔

امام ابن جریر متوفی 310 ھ حافظ ابن کثیر اور حافظ سیوطی نے اس قصہ میں اس جملہ کا ذکر نہیں کیا۔ (معالم المتنزیل ج ٣ ص 211، زاد المسیر ج ٥ ص 367، تفسیر کبیرج ٨ ص 158، الجامع لاحکام القرآن ج ٦ ص 211، انوار التنزیل و اسرار التاویل مع الشہاب ج ٦ ص 455-456 روح المعانی جز ١٧ ص 101 معارف القرآن ج ٦ ص 202)

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی متوفی 1069 ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول کا معنی یہ ہے کہ اس کو جو میرے حال کا علم ہے وہ کافی ہے اور وہ علم مجھے سوال کرنے سے غنی کردیتا ہے اور یہ مقام انبیاء (علیہم السلام) کے دعا کرنے کے منافی نہیں ہے۔ ان کا دعا کرنا اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کو ظاہر کرنے کے لئے ہے اور گڑ گڑا کر اپنی پیشانی کو ذلت کی مٹی پر رکھنے کے لئے ہے کیونکہ حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ گڑ گڑا کر دعا کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ہر مقام کی ایک توجیہ ہوتی ہے۔ (عایتۃ القاضی ج ٦ ص 456، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1417 ھ)

میں کہتا ہوں کہ اس جملہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصیبتوں اور شدائد میں اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جب انہوں نے ایسی شدید مصیبت میں اللہ تعالیٰ سے نہ صرف یہ کہ دعا نہیں کی بلکہ دعا کرنے سے بھی منع کردیا تو کیا ہم بھی مصیبتوں میں دعا نہ کیا کریں ؟ حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ہیں اور مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کا انکار کرنا انکی شان کے لائق نہیں ہے۔ اس لئے صحیح یہ ہے کہ اس قصہ میں یہ جملہ الحاقی ہے۔ اسی وجہ سے امام ابن جریر، حافظ ابن کثیر اور حافظ سیوطی نے اس قصہ میں اس جملہ کا ذکر نہیں کیا اور قرآن مجید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بہت زیادہ دعا کرنے والا فرمایا ہے :

ان ابراہیم لحلیم اواہ منیب (ھود :75) بیشک ابراہیم متحمل مزاج، بہت گڑا گڑا کر دعا کرنے والے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔

اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے یہ متصور نہیں ہے کہ جبان سے یہ کہا جائے گا کہ آپ اللہ سے دعا کریں تو وہ کہیں کہ جب اللہ کو میرے حال کا علم ہے تو وہ کافی ہے، دعا کی کیا ضرورت ہے۔ اس کی توجیہ میں کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان کا موقع تھا اس لئے اس موقع پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا نہیں کی کیونکہ اس موقع پر دعا کرنا اس امحتان سے بچنے کے مترادف ہوتا۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالتے وقت جو کچھ انہوں نے کہا، اس کا ذکر حدیث صحیح میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا جا رہا تھا تو ان کا آخری قول یہ تھا : حسبی اللہ و نعم الوکیل (صحیح البخاری رقم الحدیث :4564، صحیح مسلم رقم الحدیث :1811)

چھپکلی کو مارنے کا حکم 

سائبہ بیان کرتی ہیں کہ وہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس گئیں تو دیکھا کہ گھر میں ایک جگہ نیزہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا اے ام المومنین آپ اس نیزہ سے کیا کرتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہم اس نیزہ سے چھپکلیوں کو مارتے ہیں کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کا ہر جانور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہا تھا، ماسوا چھپکلی کے وہ آگ میں پھونک مار رہی تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مارنے کا حکم دیا۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3231، مصنفابن ابی شیبہ ج ٥ ص 402، مسند ابویعلی رقم الحدیث :4358، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :3631)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے پہلی ضرب میں چھپلی کو مار دیا، اس کو اتنی اور اتنی نیکیوں کا اجر ملے گا اور جس نے دوسری ضرب میں مارا اس کو اتنی اور اتنی نیکیوں کا اجر ملے گا اور یہ اجر پہلی ضرب سے کم ہوگا اور جس نے اس کو تیسیر ضرب میں مارا اس کو اتنا اور اتنا اجر ملے گا اور یہ دوسری بار کے اجر سے کم ہوگا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2240، سنن ابو دائود رقم الحدیث :2563، سنن الترمذی رقم الحدیث :1482، مسند احمد ج ہ ص 355)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 68