أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُكُمۡ بِالۡوَحۡىِ ‌‌ۖ وَلَا يَسۡمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا يُنۡذَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے میں تم کو صرف وحی سے ڈرا رہا ہوں اور بہروں کو جب ڈرایا جائے تو وہ کسی پکار کو نہیں سنتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ میں تم کو صرف وحی سے ڈرا رہا ہوں اور بہروں کو جب ڈرایا جائے تو وہ کسی پکار کو نہیں سنتے اور اگر ان کو آپ کے رب کا عذاب ذرا سا بھی چھو جائے تو یہ ضرور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ہم ضرور ظلم کرنے والے تھے اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو رکھیں گے، سو کسی شخص پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر (کسی کا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوا تو ہم اس کو لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کے لئے کافی ہیں (الانبیاء :45-47)

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ میں تمہیں اس کلام کو سنا کر ڈرا رہا ہوں جو تمہارے رب کا کلام ہے، تم یہ گمان نہ کرو کہ میں اپنی طرف سے کچھ کہہ رہا ہوں اور اب جب کہ میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے تو تم پر اس کا قبول کرنا لازم ہے اور اگر تم نے اس پیغام کو قبول نہ کیا اور اس کے تقاضوں پر عمل نہ کیا تو اس کا وبال صرف تم پر ہوگا۔ اس آیت میں ان کافروں کو بہرا فرمایا ہے۔ کیونکہ سننے کی غرض وغایت یہ ہے کہ حق کو سن کر اس کو قبول کیا جائے لیکن جب انہوں نے پیغام حق کو قبول نہیں کیا تو گویا انہوں نے اس کو نہیں سنا اور وہ بہرے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 45