أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ مَنۡ يَّكۡلَـؤُكُمۡ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحۡمٰنِ‌ؕ بَلۡ هُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہئے کہ رات اور دن میں رحمن (کے عذاب) سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے ؟ بلکہ یہ تو اپنے رب کے ذکر سے ہی منہ پھیرنے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ رات اور دن میں رحمٰن (کی عذاب) سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے ؟ بلکہ یہ تو اپنے رب کے ذکر سے ہی منہ پھیرنے والے ہیں کیا ان کے پاس کوئی اور معبود ہیں جو ان کو ہمارے عذاب سے چھڑا لیں گے وہ تو خود اپنی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ ہماری طرف سے ان کی مدد کی جائے گی بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا کی زندگی میں بہت نفع پہنچایا حتیٰ کہ ان کی زندگی بہت لمبی ہوگئی۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم ان پر زمین کے کناروں کو کم کرتے چلے آ رہے ہیں تو کیا یہ اب بھی غالب ہوسکتے ہیں ؟ (الانبیاء :42-44)

دنیا میں کافروں کی حفاظت کرنا 

یکلئوکم : اس کا مادہ وکلاء ہے۔ اس کا معنی ہے حراست اور حفاظت کرنا۔ کلاہ اللہ کا معنی ہے اللہ اس کو حفاظت میں رکھے۔ اس آیت سے پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ کفار آخرت میں اپنے چہروں اور پیٹھوں کو دوزخ کی آگ سے نہیں بچا سکتے اور اس آیت میں فرمایا ہے کہ دنیا میں بھی اگر اللہ ان کی حفاظت نہ کرتا تو وہ عذاب میں مبتلا ہوجاتے۔ یعنی وہ اپنے کفر اور سرکشی کی وجہ سے جس عذاب کے مستحق ہیں، اس سے ان کو اللہ تعالیٰ نے ہی بچایا ہوا ہے، یا دنیا کی آفات اور مصائب سے یا مختلف جنگوں میں مارے جانے اور قید کئے جانے سے ان کو اللہ تعالیٰ نے ہی حفاظت میں رکھا ہوا ہے ورنہ ان کے کرتوت تو ایسے تھے کہ ان کو اب تک صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کی اطاعت کرتے، شکر اور اطاعت تو بجائے خود رہی، وہ تو اللہ تعالیٰ کو یاد بھی نہیں کرتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 42