یہ فیصل ریاض شاہد صاحب کی پرانی تحریر ہے۔

ابھی کرنٹلی مولانا عمران عطاری صاحب کے ویڈیو کلپ پر جو لبڑلز چوں چوں کر رہے ہیں۔ انکے لۓ اس تحریر میں بہت کچھ سوچنے کیلۓ ہے۔۔۔۔۔۔!

مولوی اور حرکت زمین – ایک فکری پہلو

علامہ کوکب نورانی صاحب کی ایک ویڈیو آج کل وائرل ہے جس میں حرکتِ زمین کے موضوع پر کلام کرتے ہوے وہ رد حرکت زمین پر اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان فاضل بریلوی (متوفیٰ 1921ء) کے 105 منطقی دلائل کا ذکر کرتے ہیں۔ اس ویڈیو میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ رد حرکت زمین پر اہل دل کیلئے دلیل یہ ہے کہ چونکہ سرکار دو عالم علیہ السلام زمین پر آرام فرما رہے ہیں اس لئے زمین کی مجال نہیں کہ وہ حرکت کر کے سرکار علیہ السلام کے آرام میں خلل انداز ہو۔

اس ویڈیو کے موضوع کے حوالے سے نہایت بنیادی بات اور ایک تاریخی حقیقت بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جہاں تک اہل دل کی دلیل کا تعلق ہے تو چونکہ عقلی و منطقی گفتگو میں عشق کو طاق نسیاں پر رکھ دیا جاتا ہے اس لئے میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا، یہ اہل ذوق کی بات ہے جسے اہل ذوق ہی کے پیراڈائم میں کھڑے ہو کر سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن جہاں تک اعلیٰ حضرت کے 105 دلائل کا تعلق تو جاننا چاہئیے کہ اعلیٰ حضرت نے یہ دلائل اپنی کتاب الفوذ المبین فی رد حرکت زمین میں درج فرمائے ہیں اور ان کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ ریاضیاتی و منطقی طور پر Geocentricism یعنی نظریہ سکون و مرکزیتِ ارض درست ہے اور Heliocentricism یعنی فیثا غورث، کوپر نیکس، گلیلیو اور نیوٹن کا یہ نظریہ غیر حقیقی ہے کہ زمین سورج کے گرد محو گردش ہے۔

دور حاضر میں جب بعض علماے کرام حرکت زمین کا رد کرتے ہیں تو جدید تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ انہیں جاہل قرار دے کر ان کا تمسخر اڑاتا ہے۔ یہ رویہ ناصرف جہالت بلکہ تعصب پر مبنی ہے۔ اس رویے کے حاملین کی اکثریت تاریخی و عصری حقائق سے بھی نابلد ہے۔ جان لینا چاہئیے کہ سکون و مرکزیت ارض کا نظریہ مولویوں یا پادریوں کی اختراع نہیں ہے بلکہ دنیا کی تمام تہذیبیں ناصرف اسے درست سمجھتی آئی ہیں بلکہ ہمیشہ سے اسے منطقی طور پر ثابت بھی کرتی رہی ہیں۔ یونانی فلاسفہ میں سکون و مرکزیت ارض کے نظرئیے کی تعمیر نو ارسطو نے تین سو قبل مسیح میں کی جسے بعد ازاں مصری حکیم بطلیموس Ptolemy نے نہایت شرح و بسط کے ساتھ اپنی کتاب Almghest(المجسطیٰ) میں بیان کیا۔ بطلیموس کی اس کتاب نے پندرہ سو سال تک انسانی فکر پر حکمرانی کی ہے کیونکہ اس کتاب میں سکون و مرکزیت ارض کے نظرئیے کو ایسے ٹھوس عقلی ،منطقی و ریاضیاتی دلائل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ جنہیں آئین سٹائن، نیوٹن، گلیلیو اور بیکن جیسے جید سائنسدان بھی غیرمعقول Irrational ثابت نہیں کر پاے۔

درحقیقت ہر تصور ایک خاص دائرہ فکر کے اندر ہی معقول Rational ہوتا ہے۔ ارسطو سے کوپرنیکس تک دنیا پر ارسطوی فکر Aristotelian World View کا غلبہ رہا اور اسکی فکر میں زمین کائنات کے مرکز میں ساکن کھڑی تھی۔ پس یہی وجہ تھی کہ علماے مذہب اور سائنسدان اسی نقطے پر اپنی تحقیقات کی بنیاد رکھتے رہے لیکن نیوٹن نے قدیم ارسطوی سائنس کو غیر حقیقی ثابت کر دیا جس سے Classic Physics کا آغاز ہو اور ساتھ ہی یہ تصور عام ہو گیا کہ زمین متحرک جبکہ سورج ساکن ہے۔ لیکن ذہن نشین رہے کہ نیوٹونین ورلڈ ویو یا خود نیوٹن نظریہ ارضی المرکز کو غیر معقول قرار نہیں دیتے بلکہ وہ اسے غیر حقیقی قرار دیتے ہیں۔ گویا غیرمعقول اور غیر حقیقی میں فرق ہے۔ اور وہ فرق یہ ہے کہ غیرمعقول سے مراد وہ تصور ہے جس میں منطقی خامی یا خلا ہو جبکہ غیرحقیقی سے مراد ایسا تصور ہے جو معقول Rational تو ہو یعنی جس میں منطقی خلا تو نہ ہو البتہ خارجی دنیا میں اس کی تصدیق نہ ہو سکی ہو۔ یہ نقطہ ذہن نشین رکھئیے۔

دو جلدوں کی ایک کتاب Galileo was wrong حال ہی میں چھپی ہے جو نیٹ پر بھی موجود ہے۔ اس میں مصنف یہ ثابت کرتا ہے کہ نیوٹن اور گلیلیو غلط تھے جبکہ بطلیموس ٹھیک تھا یعنی زمین ساکن ہے اور سورج اسکے گرد متحرک ہے۔ آج بھی مغربی دنیا خصوصا امریکہ میں 45% نوجوان طلباء سکونِ ارض کو درست مانتے ہیں۔۔۔ تو بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ مولوی اور سائنسدان کا نہیں بلکہ قدیم و جدید سائنس کے تصادم کا ہے۔ مولوی پر تنقید سے پہلے چار کتب کا مطالعہ کر لیجئیے تو ناقدین کے چودہ طبق از خود روشن ہو جائیں گے۔

اعلیٰ حضرت یا دیگر علماے اسلام و عیسائیت جب زمین کو ساکن قرار دیتے ہیں تو درحقیقت وہ ارسطوی دائرہ فکر کے اندر کھڑے ہو کر بات کر رہے ہوتے ہیں جس میں بلاشبہ زمین ساکن ہے۔ جبکہ جدید سائنسدان جب زمین کو متحرک قرار دیتے ہیں تو وہ کلاسیکی فزکس کے دائرہ فکر میں کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔اختلاف معقولیت کا نہیں فکری بنیادوں کا ہے، اس لئے ایسے دقیق تر مسائل میں مولوی کو تنقید کا نشانہ بنا کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔۔۔ خود آئین سٹائین اور دیگر متعدد سائنسدان کہہ گئے ہیں کہ قطعی طور پر ہم نیوٹن کو درست قرار نہیں دے سکتے۔۔۔۔!!!! اب مزید غور و فکر آپ کا کام ہے۔۔۔مطالعہ کیجئیے اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیجئیے۔

ف ر ش