أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

انہوں نے ابراہیم کے ساتھ ایک چال چلی سو ہم نے ان کو ناکام کردیا

پھر فرمایا : انہوں نے ابراہیم کے ساتھ ایک چال چلی سو ہم نے ان کو ناکام کردیا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مباحثہ اور مناظرہ کیا اور اس میں وہ مبہوت اور لاجواب ہوگئے پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلانا چاہا لیکن وہ اس میں بھی ناکام ہوگئے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 158-160 ملحضاً ، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ)

نمرود اور اس کی قوم کا عذاب سے ہلاک ہونا 

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی 774 ھ اور امام ابن جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :

زید بن اسلم نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس ظالم بادشاہ (نمروذ) کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جو اس کو اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا تھا۔ نمروذ نے اس کی دعوت کا انکار کیا پھر دسوری بار بھیجا پھر انکار کیا پھر تیسری بار بھیجا پھر انکار کیا، پھر اس فرشتہ نے کہا تم اپنا لشکر جمع کرو، میں اپنا لشکر جمع کرتا ہوں۔ سو نمروذ نے اپنے حواریوں اور سپاہیوں کا لشکر جمع کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مچھر بھیجے جن کو دھوپ کی وجہ سے انہوں نے دیکھا پھر اللہ تعالیٰ نے وہ مچھر ان پر مسلط کردیئے۔ مچھروں نے ان کا خون پی لیا اور ان کا گوشت کھا گئے اور جنگل میں صرف ان کی ہڈیاں پڑی رہ گئیں۔ ایک مچھر نمروز کے نتھنے کے راستہ سے اس کے دماغ میں داخل ہوگیا اور چار سو سال تک وہ اس عذاب میں مبتلا رہا۔ اس عرصہ میں اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جاتے رہے حتیٰ کہ اللہ عزوجل نے اس کو ہلاک کردیا۔ (البدایہ والنہایہ ج ١ ص 224، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418، طبع جدید، المنتظم لابن الجوزی ج ۃ ص 169، دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے امتحان میں سرخ رو ہوئے اور نموذ اور اس کی قوم اللہ کے عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوگئی۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 70