أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَئِمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ‌ۚ وَكَانُوۡا لَـنَا عٰبِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیک کام کنے کی وحی کی اور نماز قائم کرنے کی اور زکوۃ ادا کرنے کی اور وہ ہماری ہی عبادت کرنے والے تھے

اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر دوسری نعمت یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف اور اپنی توفیق سے سب کو صالح اور نیک بنایا۔ اور تیسری نعمت یہ ہے کہ ان کو امام اور نبی بنایا۔ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کے حکم سے اس کے دین کی دعوت دیتے تھے۔

اور چوتھی نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی وحی سے مشرف فرمایا اور ان کو نماز پڑھنے کا حم دیا جو بدنی عبادات میں سب سے افضل ہے اور زکوۃ کا حکم دیا جو مالی عبادات میں سب سے افضل ہے۔ نماز اللہ تعالیٰ کی تعظیم پر دلالت کرتی ہی اور زکوۃ مخلوق کی شفقت پر دلالت کرتی ہے۔ علامہ شامی نے کہا ہے کہ انبیاء پر زکوۃ فرض نہیں ہوتی۔ کیونکہ زکوۃ مال کو میل سے پاک کرنے کے لئے نکالی جاتی ہے اور انبیاء کا مال میل سے متلوث نہیں۔ اس لئے اس آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کو زکوۃ کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا نہ کہ زکوۃ ادا کرنے کا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زکوۃ سے مراد تزکیہ نفس ہو یعنی ان کو یہ حک مدیا کہ وہ اپنے باطن کو پاک اور صاف رکھیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی پہلی یہ صفت بیان فرمائی کہ وہ صالح اور نیک ہیں پھر انکی صفت میں ترقی فرما کر بیان فرمایا کہ وہ امام ہیں پھر مزید ترقی فرمائی کہ ان پر وحی کی جاتی ہے اور وہ شرف نبوت سے مشرف ہیں اور فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر نعمتیں فرمائی ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے اس کی عبادت کرتے رہتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 73